شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں

شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں
مجھے وعدوں کی خالی سیپیاں اچھی نہیں لگتیں

گزشتہ رُت کے رنگوں کا اثر دیکھو کہ اب مجھ کو
کھلے آنگن میں اڑتی تتلیاں اچھی نہیں لگتیں

وہ کیا اجڑا نگر تھا جسکی چاہت کے سبب ابتک
ہری بیلوں سے الجھی ٹہنیاں اچھی نہیں لگتیں

دبے پائوں ہوا جس کے چراغوں سے بہلتی ہو!
مجھے ایسے گھروں کی کھڑکیاں اچھی نہیں لگتیں

بھلے لگتے ہیں طوفانوں سے لڑتے بادباں مجھ کو
ہوا کے رُخ پہ چلتی کشتیاں اچھی نہیں لگتیں

یہ کہہ کر آج اس سے بھی تعلق توڑ آیا ہوں!
مری جاں، مجھ کو ضدی لڑکیاں اچھی نہیں لگتیں

کسی گھر میں رَسن بستہ رہیں جو رات دن محسن
مجھے اکثر وہ سہمی ہرنیاں اچھی نہیں لگتیں

محسن نقوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے