شکستِ زنداں

شکستِ زنداں
چینی شاعر یانگ سو کے نام جس نے چیانک کائی شیک کے جیل میں لکھا تھا بیس سال قید کاغذ کے ایک پرزے پر لکھے ہوۓ چند الفاظ کی بنا پر ہو سکتا ہے کہ میں بیس سال تک سورج کی شکل نہ دیکھ سکوں، لیکن کیا تمہارا فرسودہ نظام جو لمحہ بہ لمحہ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اپنی موت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بیس سال تک زندہ رہ سکے گا
خبر نہیں کہ بلا خانۂ سلاسل میں
تیری حیاتِ ستم آشنا پہ کیا گزری
خبر نہیں کہ نگارِ سحر کی حسرت میں
تمام رات چراغِ وفا پہ کیا گزری
مگر وہ دیکھ فضا میں غبار سا اُٹھا
وہ تیرے سرخ جوانوں کے رہوار آئے
نظر اٹھا کہ وہ تیرے وطن کے محنت کش
گلے سے کہنہ غلامی کا طوق اتار آئے
افق پہ صبح بہاراں کی آمد آمد ہے
فضا میں سرخ پھریروں کے پھول کھلتے ہیں
زمین خندہ بلب ہے شفیق ماں کی طرح
کہ اس کی گود میں بچھڑے رفیق ملتے ہیں!
شکستِ مجلس و زنداں کا وقت آ پہنچا
وہ تیرے خواب حقیقت میں ڈھال آئے ہیں
نظر اُٹھا کہ ترے دیس کی فضاؤں پر
نئی بہار نئی جنتوں کے سائے ہیں
دریدہ تن ہے وہ قحبائے سیم و زر جس کو
بہت سنبھال کے لائے تھے شاطرانِ کہن
رباب چھیڑ غزل خواں ہو رقص فرما ہو
کہ جشنِ نصرت محنت ہے جشنِ نصرتِ فن
میں تجھ سے دور سہی لیکن اے رفیق مرے
تری وفا کو مری جہدِ مستقل کا سلام
ترے وطن کو تری ارضِ با حمیت کو
دھڑکتے کھولتے ہندوستاں کے دل کا سلام
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے