شدّت

شدّت

تجھ سے مِل کر میرے جاناں !
میں نے یہ محسوس کیا ہے
گر میں چاہوں بھی تو اپنے
لفظوں کی اِس جادوگری سے
دل میں پلنے والے سارے
جذبوں کی شدت کو کوئی
نام کبھی نہ دے پاؤں گی
تیرے میرے پیار کے آگے
لفظ قطاریں گونگی بہری
تیرے میرے سارے جذبے
لفظوں کے محتاج نہیں ہیں
ہر صبحِ نو کی آمد پر
تیری پیشانی کے جیسی
اُجلی نِکھری کِرن جگائے
اور میں جب بھی آنکھیں کھولوں
تیرا چہرہ سورج بن کے
سب سے پہلے سامنے آئے
شام ڈھلے جب ہر منظر پر
دھیرے سے تاریکی اُترے
میں بھی سارے خواب سمیٹے
تیرے قرب کی آنچ میں جاناں !
لمحہ لمحہ ڈھلتی جاؤں
پھیلتا جائے تیرا سینہ
اور میں اُس میں سمٹتی جاؤں
جاناں اپنی پریم کہانی
مجھ کو یہ احساس دِلائے
صدیوں کا ہو گَر یہ جیون
لاکھوں بار جنم مِل جائے
پھر بھی پیار سمٹ نہ پائے
پھر بھی پیار سمٹ نہ پائے

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے