شی مین

شی مین
یہ جاننے کیلئے سیاست دان مرد ہے یا عورت اس کی پالیسیاں دیکھنا چاہیں اور بے غم عابدہ حسین صاحب سیاست کی مرد میدان ہیں، کہتے ہیں عابدہ حسین کو خاتون بنانے کا فیصلہ تو بہت بعد میں کیا گیا تھا پہلے ان میں ساری مردانہ خصوصیات اکٹھی کی گئیں، مگر کاتب تقدیر کی کتابت کی غلطی سے یہ وہ بن گئیں، جس گھر میں پیدا ہوئیں وہ تنا بڑا تھا کہ اگر کوئی بدھ کو ملنے جاتا تو چوکیدار کہتا اس برآمدے میں سیدھے چلے جائیں اور جمعرات کو دائیں مڑ جائیں، اس گھرانے کی خواتین کے لباس میں تو گھروں کی بلند دیواریں بھی شامل ہوتیں، عورتوں کے دوپٹوں کو بھی غیروں سے پردہ کرایا جاتا، شریف شرفا تو غیروں کے سامنے بیوی کے جوتے کا ماپ تک نہ بتاتے ، مبادا کوئی ہمدردی کرنے لگے ، اس گھرانے کو پانچ ہزار ایکڑ کا وارث چاہئیے تھا، جب بے غم صاحبہ پیدا نہ ہوئیں تھیں، نشیمن میں ہر طرف شمعیں جل رہی تھیں اور جب یہ پیدا ہوئیں تو ہر چیز جل رہی تھی، وہ ان کی نانی لیڈی مراتب تھیں، جنہیں عورت کے مراتب کا پتہ تھا، خود بے غم عابدہ حسین کو اپنا لڑکی پیدا ہونا اتان برا لگا کہ اپنی پیدائش کے ایک سال بعد تک انہوں نے کسی سے بات نہ کی، مگر بڑی ہو کر عابدہ حسین کے بجائے عابد حسین بن گئیں، یہاں تک کہ جب مارچ 1971 میں بھٹو صاحب نے انہیں خواتین کی نشست پر الیکشن لڑنے کیلئے کہا تو انہوں نے انکار کیا اور پارٹی سے استعفیٰ دے دیا، 1988میں جب بے نظیر قائد حزب اقتدار تھیں، بے غم صاحبہ کو کہا گیا کہ آپ لیڈر آف دی اپوزیشن بن جائیں تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ خاتون کا مقابلہ کرنا کوئی مردانگی نہیں وہ پہلی خاتون ہیں جو ڈسٹرکٹ کونسل جھنگ کی چئیرمین رہیں، یہی نہیں شادی میں بھی فخر امام کو بیاہ کر اپنے گھر لائیں۔
مردوں ے ساتھ مردوں جیسا سلوک کرتی ہیں، یہی نہیں عورتوں کے ساتھ بھی مردوں جیسا سلوک کرتی ہیں، شیر افضل جعفری صاحب نے ان کی بڑائی بیان کرتے ہوئے کہا کہ کرنل عابد حسین کی یہ بیٹی کئی بیٹوں پر بھاری ہے ، جنہوں نے بے غم صاحبہ کو دیکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ فقرہ یہ تھا، کرنل عابد حسین کی بیٹی کئی بیٹیوں پر بھاری ہے ۔
وہ سیاست میں بے حیثیت عورت نہیں ، بحیثیت سیاست دان آئیں، ہمارے ہاں ہر بار ایسے سیاست دان جیت کر اسمبلی میں پہنچتے ہیں جس سے ان کی سیاست دانوں کی اہلیت سے کہیں زیادہ عوام کے حافظے کا پتہ چلتا ہے ، جی ہاں عوام کے کمزور حافظے کا، بے غم صاحب پہلی بار جب گھر سے اسمبلی آئیں تو برقع پہن کر، پھر اسمبلی میں گھر کر گئیں،اب اسمبلی میں یوں پھرتی ہیں جیسے گھر میں پھرتی ہوں، سنا ہے وہ جھنگ کے لوگوں کو بہت کم نظر آتی ہیں، حالانکہ ہم نے جب بھی دیکھا بہت نظر آئیں، چہرے کے نقوش سے تو ماہنامہ نقوش لگتی، انہیں دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ بھری بیٹھی ہیں، چہرے اور دروازے پر ڈو ناٹ ڈسٹرب کا بورڈ لگا ہوتا ہے ،ہاتھ میں ایسے نرم کہ ایک صحافی خاتون نے پوچھا آپ ہاتھوں کو ایسا رکھنے کیلئے کیا کرتی ہیں؟ کہا ان کو ایسا رکھنے کیلئے ہی تو میں کچھ نہیں کرتی، بچپن میں اپنے پاؤ مور کی طرح اٹھا کر زمین پر رکھتیں، یہی نہیں پاؤ بھی مور کی طرح کے رکھتی، بچپن میں اپنی کلاس کی نمایا طالبہ تھیں، کلاس کو جتنے فاصلے سے دیکھا جاتا، یہی نمایا نظر آتیں، بچپن ہی سے سیاست دان بننے کی صلاحیت موجود تھی، یعنی ہر سال اپنی جماعت بدل لیتی، جب کہ ہمارے دوست ف تو ایک ہی جماعت سے اتنے کمٹیڈ ہوئے کہ آج کل ان کا ساتیوں میں آٹھواں سال ہے ، غصے میں ایسی انگریزی بولتی ہیں کہ لگتا ہے انگریزی پر انکو مکمل گرفت نہیں، انگریزی کو ان پر مکمل گرفت ہے ، کمر ے میں انگریزی کتابیں رکھتی ہیں کہ کبھی بندے کا پڑھنے کا دل بھی چاہتا ہے ، اردو کتابیں بھی رکھیں ہیں، کہ کبھی بندے کا پڑھنے کو دل نہیں بھی چاہتا ہے ۔
وہ بڑی ہو کر بے نظیر بننے چاہتی ہیں، حالانکہ وہ صرف چھوٹی ہو کہ یہ بن سکتی ہیں، ان میں اور بے نظیر میں وہی فرق ہے جو دونوں کے والدوں میں تھا۔
سیاست میں امام وہ نہیں ہوتا جس کی مرضی پر پیروکار چلیں، بلکہ وہ ہوتا ہے جو پیروکاروں کی مرضی پر چلتا ہے ، فخر امام صاحب پنج وقتی آئینی ہیں، ان سے کہو چاند بہت خوبصورت لگ رہا ہے تو کہیں گے ، ہاں لگتا تو آئین کے مطابق ہی ہے ، 1985 میں وہ اسمبلی کے اسپیکر بنے مگر پھر تحریک عدم اعتماد میں انہیں 72 ووٹ ملے وہ ہار گئے ، تو کسی نے کہا امام کے ساتھ 72 ہی ہوتے ہیں، فخر امام بے غم صاحب کو اپنی دنیا کہتے ہیں،کیوں کہتے ہیں؟ یہ بات گول مول ہے ، فخر امام صاحب کیلئے وہ فخر بھی ہیں اور امام بھی، وہ مرد عورت کی برابری کی قائل ہیں، کہتی مرد اگر با صلاحیت ہو تو وہ عورت کی برابری کر سکتا ہے ، اگر کوئی مرد ایسا نہ ہو تو اس برابر کر دیتی ہیں، وہ تو تجارتی بنیادوں پر افزائش نسل کیلئے مرغیاں خریدیں تو بھی جتنی مرغیاں خریدیں گی اتنے ہی مرغے لیں گی، ویسے ہم سمجھتے ہیں صرف ایک کام ایسا ہے جو دو مرد تو مل کر سکتے ہیں، مگر عورتیں دس مل کر نہیں کر سکتی، وہ ہے چپ رہنا، بے غم صاحبہ اس موضوع پر بھی بات کر دیتی ہیں جس پر سرگوشی ہی کی جا سکتی ہے ، دوران گفتگو دوسرے کو اپنی سطح پر نہیں لاتیں اور نہ دوسرے کی سطح پر اترتیں ہیں، بلکہ اپنی سطح پر گفتگو کرتی ہیں، جھوٹ نہیں بولتیں، اس لئے عمر پوچھو تو جواب نہیں دیتیں، وہ بول رہی ہوں تو لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں، کیونکہ سیاسی خاتون اور گلوکارہ کی یہ خوش فہمی ہی ہوتی ہے کہ لوگ اسے صرف سننے آتے ہیں۔
جس کلچر پر وہ ایگری ہیں وہ ایگری کلچر ہے ، لیکن کہتی ہیں، میں جاگیردارنی نہیں ہوں، ٹھیک کہتی ہیں وہ جاگیردارنی نہیں ہیں، جاگیردار ہیں، علاقے کے لوگ ان کو سلام بھی کریں تو لگتا ہے معافی مانگ رہے ہیں، گھڑ دوڑ پسند ہے ، اکثر اس میں حصہ لیتی ہیں ، یہی نہیں جیتنی بھی ہیں، اس قدر مصروف کہ ان کہ پاس دن بھی رکی مصروفیات کی لسٹ دیکھنے کی فرصت نہیں، یہ ہی ان کی خوشی کا راز ہے ، فارغ رہتیں تو اپنے وزن کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان رہتیں، نارمل گفتگو بھی کر رہی ہوں تو لگتا ہے ڈانٹ رہی ہیں، اس لئیے ڈانٹ بھی رہی ہوں تو لگتا ہے ، نارمل گفتگو کر رہی ہیں، ویسے بھی باس اور بارش ہوتی ہی برسنے کیلئے ہے ۔
عورت کے تخلیقی کاموں کے اتنے خلاف ہیں کہ جو تخلیقی کام قدرت نے عورت کے ذمے لگایا ہے اسے روکنے کیلئے منصوبہ بندی کرتی رہتی ہی، یوں پاکستان میں عورتیں ضبط تولید کی گولیاں کھاتیں ، وہ ترقی پسند خواتین کہلاتیں اور جو نہ کھاتیں وہ مائیں کہلواتیں، جتوئی صاحب کے دور میں وزیر اطلاعات رہیں، ویسے اطلاعات کا شعبہ پیدائشی طور پر خواتین ہی کا ہے ، آج کل امریکہ میں پاکستانی کلچر کی نمائندہ ہیں، پہلے پاکستان میں امریکی کلچر کی نمائندہ تھیں۔
وہ ڈپلومیٹ ہیں، ایک سیاست دان نے کسی کو بتایا کہ میں ڈپلومیٹ ہو تو دوسرا بولا اچھا میں تو تمہیں غیر شادی شدہ سمجھ رہا تھا لیکن اس کے باوجود امریکہ میں کسی کو اپنے گھر دعوت نہیں دیں، کہتی ہیں یہاں کون سی میری بیوی ہے جو مہمانوں کو پکا کر کہلائے گی۔
امر کی گفتگو اور لباس میں اختصار سے کام لیتے ہیں، یہ اختصار میں بھی تفصیل سے کام لیتی ہیں، انہیں تو بندہ کہہ دے کہ مجھے مونچھیں پسند ہیں تو کہیں گی کہ مرد کی یا عورت کی ، جب حکومت ان کی نہیں ہوتی یہ حکومت کی ہوتی ہیں، سیاست میں آنے سے پہلے تصویریں بناتیں، سیاست دان اور مصور میں یہ فرق ہے کہ مصور کی صرف تصوروں کو ہی لٹکایا جاتا ہے ، ان عورتوں سے زیادہ تیز ہیں جو ان سے کم تیز ہیں، غصے میں منہ کھلا رکھتی ہیں، اور آنکھیں بند، وہی باتیں چھپاتیں ہیں جو وہ نہیں جانتیں، ایسی با رعب شخصیت ہیں کہ کچھ نہ کہہ رہی ہوں تب بھی لگتا ہے کہ کچھ کہہ رہی ہیں، مسز تھیچر سے خاوند کو ان سے ملنے سے پہلے محترمہ کے پی اے سے ٹائم لینا پڑتا تھا، ایک بار کسی نے تھیچر کے خاوند سے پوچھا مارگریٹ تھیچر آپ کی بیوی ہیں؟ تو اس نے کہا آپ کو اس شبے پر کوئی شک ہے ۔
جھنگ کے لوگ انہیں اپنا ہیرو کہتے ہیں، سنا ہے کچھ عزیز انہیں چاند بھی کہتے ہیں جس کی وجہ شاید یہ ہو کہ چاند مذکر ہوتا ہے ، بہر حال جب تک وہ سفیر بن کر امریکہ نہیں گئی تھیں لوگوں کوشک تھا کہ پاکستانی سیاست میں بے نظیر واحد خاتون ہیں اب شک نہیں رہا۔
ڈاکٹر محمد یونس بٹ 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے