شیخ ناسخ کی قصے

١ ) ایک دن کوئی شخص ملاقات کو آئے ، شیخ ناسخ اس وقت چند دوستوں کو لئے انگنائی میں کرسیوں پر بیٹھے تھے -شخص مذکور کے ہاتھوں میں چھڑی تھی -اور اتفاقاً پاؤں کے آگے ایک مٹی کا ڈھیلا پڑا تھا ، وہ شغل بیکاری کے طور پر جیسے کہ اکثر اشخاص کو عادت ہوتی ہے ، آھستہ آھستہ لکڑی کی نوک سے ڈھیلے کو توڑنے لگے ، شیخ صاحب نے نوکر کو آواز دی -سامنے حاضر ہوا ،فرمایا میاں ایک ٹوکری مٹی کے ڈھیلوں کی بھر کر انکے سامنے رکھ ،دو جی بھر کر شوق پورا کر لیں –

٢) ایک دن اپنے خانہ باغ کے بنگلہ میں بیٹھے تھے اور فکر مضمون میں غرق تھے ، ایک شخص آ کر بیٹھ ،گئے ان کی طبیعت کچھ پریشان ہی ، اٹھ کر ٹہلنے لگے کہ یہ اٹھ جائیں مگر وہ نا اٹھے ، کسی ضرورت کے بہانے سے پھر گئے کہ یہ سمجھ جائیں مگر پھر بھی نا سمجھے ، انہوں نے چلم سے چنگاری نکال کر بنگلہ کی ٹاٹ میں رکھ دی اور آپ لکھنے لگے ، ٹاٹ جلنی شروع ہی ، وہ شخص گھبرا کر اٹھے اور کہا کہ شیخ صاحب آپ دیکھتے ہیں ، یہ کیا ہو رہا ہے -انہوں نے انکا ہاتھ پکڑ لیا کہ جاتے کہاں ہو ، اب تو تمھیں اور مجھے جلکر راکھ کا ڈھیر ہونا ہے -تم نے میرے مضامین کو خاک میں ملایا ہے میرے دل کو جلایا ہے ، اب کیا میں تمھیں جانے دونگا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے