شہر سے جب بھی کوئی شہر جدا ہوتا ھے

شہر سے جب بھی کوئی شہر جدا ہوتا ھے
سارے نقشے پہ ہی کہرام بپا ہوتا ھے
روز اک باغ گزرتا ھے اِسی رستے سے
روز کشکول میں اک پھول گِرا ہوتا ھے
زخم اور پیڑ نے اک ساتھ دعا مانگی ھے
دیکھیے پہلے یہاں کون ہرا ہوتا ھے
ایک دوجے کو کبھی جان نہیں پائے ہم
میں نیا ہوتا ہوں،یا خواب نیا ہوتا ھے
میں سنا آیا ہوں کل رات اسے اپنی کتھا
جانے اب یار کی دیوار کا کیا ہوتا ھے
عابد ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے