شیلی بیٹی

شیلی بیٹی
تُجھے جب بھی کوئی دُکھ دے
اُس دُکھ کا نام بیٹی رکھنا
جب میرے سفید بال
تیرے گالوں پہ آن ہنسیں ، رو لینا
میرے خواب کے دُکھ پہ سو لینا
جن کھیتوں کو ابھی اُگنا ہے
اُن کھیتوں میں
میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی
بس پہلی بار ڈری بیٹی
مَیں کتنی بار ڈری بیٹی
ابھی پیڑوں میں چھُپے تیرے کماں ہیں بیٹی
میرا جنم تُو ہے بیٹی
اور تیرا جنم تیری بیٹی
تُجھے نہلانے کی خواہش میں
میری پوریں خُون تھُوکتی ہیں
سارا شگفتہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے