شیدا

شیدا

شیدے کے متعلق امر تسر میں یہ مشہور تھا کہ وہ چٹان سے بھی ٹکر لے سکتا ہے اس میں بلا کی پھرتی اور طاقت تھی گوتن و توش کے لحاظ سے وہ ایک کمزور انسان دکھائی دیتا تھا لیکن امر تسر کے سارے غنڈے اس سے خوف کھاتے اور اُس کو احترام کی نظروں سے دیکھتے تھے۔ فرید کا چوک، معلوم نہیں فسادات کے بعد اُس کی کیا حالت ہے عجیب و غریب جگہ تھی یہاں شاعر بھی تھے۔ ڈاکٹر اور حکیم بھی موچی اور جلا ہے، جواری اور بدمعاش، نیک اور پرہیز گار سبھی یہاں بستے تھے۔ ہر وقت گہما گہمی رہتی تھی۔ شیدے کی سرگرمیاں چوک سے باہر ہوتی تھیں یعنی وہ اپنے علاقے میں کوئی ایسی حرکت نہیں کرتا تھا جس پر اُس کے محلے والوں کو اعتراض ہو۔ اُس نے جتنی لڑائیاں لڑیں دوسرے غنڈوں کے محلے میں۔ وہ کہتا تھا اپنے محلے میں کسی دوسرے محلے کے غنڈے سے لڑنا نامردی کی نشانی ہے۔ مزا تو یہ ہے کہ دشمن کو اُس کی اپنی جگہ پر مارا جائے۔ اور یہ صحیح تھا۔ ایک بار پٹرنگوں سے اس کی ٹھن گئی۔ وہ کئی مرتبہ چوک فرید سے گزرے۔ بڑکیں مارتے، نعرے لگاتے شیدے کو گالیاں دیتے۔ وہ یہ سب سُن رہا تھا مگر اُس نے اُن سے بھڑنا مناسب نہ سمجھا اور خاموش رحمان

’’ماندرو کی دُکان میں بیٹھا رہا۔ لیکن دو گھنٹوں کے بعد وہ پٹرنگوں کے محلے کی طرف روانہ ہوا۔ اکیلا۔ بالکل اکیلا اور پھر غیر مسلح۔ وہاں جا کر اس نے ایک فلک شگاف نعرہ بلند کیا اور پٹرنگوں کو جو اپنے کام میں مصروف تھے للکارا نکلو باہر۔ تمہاری۔ ‘‘

دس پندرہ پٹرنگ لاٹھیاں لے کر باہر نکل آئے اور جنگ شروع ہو گئی میرا خیال ہے شیدا گتکے اور نبوٹ کا ماہر تھا۔ اُس پر لاٹھیاں برسائی گئیں لیکن اس نے ایک بھی ضرب اپنے پر نہ لگنے دی ایسے پینترے بدلتا رہا کہ پٹرنگوں کی سٹی گم ہو گئی۔ آخر اُس نے ایک پٹرنگ سے بڑی چابکدستی سے لاٹھی چینی اور حملہ آوروں کو مار مار کو ادھ موا کر دیا۔ دوسرے روز اُسے گرفتار کر لیا گیا۔ دو برس قید با مشقت کی سزا ہوئی۔ وہ جیل چلا گیا جیسے وہ اُس کا اپنا گھر ہے۔ اُس دوران میں اُس کی بوڑھی ماں وقتاً فوقتاً ملاقات کے لیے آتی رہی۔ وہ مشقت کرتا تھا لیکن اُسے کوئی کوفت نہیں ہوتی تھی وہ سوچتا تھا کہ چلو ورزش ہو رہی ہے صحت ٹھیک رہے گی۔ اُس کی صحت باوجود اس کے کہ کھانا بڑا واہیات ہوتا تھا پہلے سے بہتر تھی اُس کا وزن بڑھ گیا تھا لیکن وہ بعض اوقات مغموم ہو جاتا اور اپنی کوٹھڑی میں ساری رات جاگتا رہتا۔ اس کے ہونٹوں پر پنجابی کی یہ بولی ہوتی ؂ کی کچیے تیری یاری مہناں مہناں ہو کے ٹُٹ گئی ایک برس گزر گیا مشقت کرتے کرتے۔ اب اُس کی افسردگی کا دور شروع ہوا۔ اُس نے مختلف بولیاں گانا شروع کر دیں مجھے ایک قیدی نے بتایا جو اُس کے ساتھ والی کوٹھڑی میں تھا کہ وہ بولیاں گایا کرتا تھا۔ لبھ جان گے یار گواچے ٹھیکے لے لے پتناں دے اس کا مطلب یہ ہے کہ تجھے اپنا گُم شدہ محبوب مل جائے گا اگر تو دریا کے ساحل پر کشتیاں چلانے کا ٹھیکہ لے لے۔ گڈی کٹ جاندی جنھاں دی پریم والی مُنڈے لے جاندے اونہاں دی ڈور لُٹ کے یعنی جن کی محبت کا پتنگ کٹ جاتا ہے تو لڑکے بالے بڑا شور مچاتے ہیں اور اُن کی ڈور لُوٹ کر لے جاتے ہیں۔ میں اب اور بولیوں کا ذکر نہیں کروں گا۔ کیونکہ ان سب کا جو شیدے کے ہونٹوں پر ہوتی تھیں، ایک ہی قسم کا مفہوم ہے۔ اُس قیدی نے مجھ سے کہا ہم سمجھ گئے تھے کہ شیدا کسی کے عشق میں گرفتار ہے۔ کیونکہ ہم نے کئی مرتبہ اُسے آہیں بھرتے بھی دیکھا۔ مشقت کے دوران میں وہ بالکل خاموش رہتا، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ کسی اور دنیا کی سیر کررہا ہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد ایک لمبی آہ بھرتا اور پھر اپنے خیالات میں کھو جاتا‘‘

ڈیڑھ برس کے بعد جب شیدا خودکشی کا ارادہ کر چکا تھا اور کوئی ایسی ترکیب سوچ رہا تھا کہ اپنی زندگی ختم کر دے کہ اُسے اطلاع ملی کہ ایک جوان لڑکی تم سے ملنے آئی ہے۔ اُس کو بڑی حیرت ہوئی کہ یہ جوان لڑکی کون ہو سکتی ہے۔ اس کی تو صرف ماں تھی جو اُس سے اپنی ممتا کے باعث ملنے آ جایا کرتی تھی۔ ملاقات کا انتظام ہوا۔ شیدا سلاخوں کے پیچھے کھڑا تھا۔ اُس کے ساتھ مسلح سپاہی۔ لڑکی کو بُلایا گیا شیدے نے سلاخوں میں سے دیکھا کہ ایک بُرقع پوش عورت آہنی پنجرے کی طرف بڑھ رہی ہے اُس کو ابھی تک یہ حیرت تھی کہ یہ عورت یا لڑکی کون ہو سکتی ہے۔ سفید برقع تھا جب وہ پاس آئی تو اُس نے نقاب اُٹھائی۔ شیدا چیخا‘‘

تم۔ تم کیسے۔ ‘‘

زُلیخا جو کہ پٹرنگوں کی لڑکی تھی زارو قطار رونے لگی اُس کے حلق میں لفظ اٹک اٹک گئے

’’میں تم سے ملنے آئی ہوں۔ لیکن۔ لیکن مجھے۔ معاف کر دینا اتنی دیر کے بعد آئی ہوں۔ تم خدا معلوم۔ اپنے دل میں میرے متعلق کیا سوچتے ہو گے۔ ‘‘

شیدے نے سلاخوں کے ساتھ سر لگا کرکہا

’’نہیں میری جان۔ میں تمہارے متعلق سوچتا ضرور رہا۔ لیکن میں جانتا تھا کہ تم مجبور ہو، زُلیخا نے روتے ہوئے کہا

’’میں واقعی مجبور تھی۔ لیکن آج مجھے موقع ملا تو میں آگئی۔ سچ کہتی ہوں میرا دل کسی چیز میں نہیں لگتا تھا۔ ‘‘

’’یہ موقع تمھیں کیسے مل گیا؟‘‘

زُلیخا کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے

’’میرے ابا کا انتقال ہو گیا ہے۔ کل اُن کا چالیسواں تھا۔ ‘‘

شیدا مرحوم سے اپنی ساری مخاصمت بھول گیا

’’خدا اُنھیں جنت بخشے۔ مجھے یہ خبر سُن کر بڑا افسوس ہوا۔ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

’’صبر کرو زُلیخا۔ اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں‘‘

زُلیخا نے اپنے سفید بُرقعے سے آنسو پونچھے

’’میں نے بہت صبر کیا ہے شیدے، اب اور کتنی دیر کرنا پڑے گا۔ تم یہاں سے کب نکلو گے؟‘‘

بس چھ مہینے رہ گئے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ مجھے بہت پہلے ہی چھوڑ دیں گے۔ یہاں کے سب افسر مجھ پر مہربان ہیں۔ زُلیخا کی آواز میں محبت کا بے پناہ جذبہ پیدا ہو گیا

’’جلدی آؤ پیارے۔ مجھے اب تمہاری ہونے سے روکنے والا کوئی نہیں۔ خدا کی قسم اگر کسی نے تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو میں خود اُس سے نپٹ لوں گی۔ میں نہیں چاہتی کہ تم پھر اسی مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ۔ سنتری نے کہا کہ وقت ختم ہو گیا۔ چنانچہ اُن کی ملاقات بھی ختم ہو گئی۔ زلیخا روتی چلی گئی اور شیدا دل میں مسرت اور آنکھوں میں آنسو لیے جیل کے اندر چلا گیا جہاں اُس کو مشقت کرنا تھی اُس دن اُس نے اتنا کام کیا کہ جیلر دنگ رہ گئے۔ دو مہینوں کے بعد اُسے رہا کر دیا گیا۔ اس دوران میں زُلیخا دو مرتبہ ا س سے ملاقات کرنے آئی تھی۔ اس نے آخری ملاقات میں اُس کو بتا دیا تھا کہ وہ کس تاریخ کو جیل سے باہر نکلے گا چنانچہ وہ گیٹ کے پاس برقع پہنے کھڑی تھی۔ دونوں فرطِ محبت میں آنسو بہانے لگے۔ شیدے نے تانگہ لیا دونوں اُس میں سوار ہوئے اور شہر کی جانب چلے۔ لیکن شیدے کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ زُلیخا کو کہاں لے جائے گا۔ زُلیخا تمھیں کہاں جانا ہے‘‘

زُلیخا نے جواب دیا

’’مجھے معلوم نہیں۔ تم جہاں لے جاؤ گے ‘ وہیں چلی جاؤں گی‘‘

شیدے نے کچھ دیر سوچا اور زلیخا سے کہا

’’نہیں۔ یہ ٹھیک نہیں تم اپنے گھر جاؤ۔ دنیا مجھے گنڈہ کہتی ہے لیکن میں تمھیں جائز طریقے پر حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ تم سے باقاعدہ شادی کروں گا۔ ‘‘

زُلیخا نے پوچھا

’’کب؟‘‘

’’بس ایک دو مہینے لگ جائیں گے۔ میں اپنی جوئے کی بیٹھک پھر سے قائم کر لوں اس عرصے میں اتنا روپیہ اکٹھا ہو جائے گا کہ میں تمہارے لیے زیور کپڑے خرید سکوں۔ ‘‘

زُلیخا بہت متاثر ہوئی تم کتنے اچھے ہو شیدے۔ جتنی دیر تم کہو گے میں اس گھڑی کے لیے انتظار کروں گی جب میں تمہاری ہو جاؤں گی۔ شیدا ذرا جذباتی ہو گیا

’’جانی، تم اب بھی میری ہو۔ میں بھی تمہارا ہوں۔ لیکن میں چاہتا ہوں جو کام ہو طور طریقے سے ہو۔ میں اُن لوگوں سے نہیں جو دوسروں کی جوان کنواری کو روغلا کر خراب کرتے ہیں۔ مجھے تم سے محبت ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ تمہاری خاطر میں نے مارکھائی اور قریب قریب دو برس جیل میں کاٹے۔ خدا وند پاک کی قسم کھا کے کہتا ہوں ہر وقت میرے ہونٹوں پر تمہارا نام رہتا تھا۔ زُلیخا نے کہا

’’میں نے کبھی نماز نہیں پڑھی تھی لیکن تمہارے لیے میں نے ایک ہمسائی سے سیکھی اور بلاناغہ پانچوں وقت پڑھتی رہی۔ ہر نماز کے بعد دُعا مانگتی کہ خدا تمھیں ہر آفت سے محفوظ رکھے‘‘

شیدے نے شہر پہنچتے ہی دوسرا تانگہ لے لیا اور زُلیخا سے جدا ہو گیا تاکہ وہ اپنے گھر جائے اور وہ اپنے۔ شیدے نے ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر ایک ہزار روپے پیدا کر لیے۔ ان سے اُس نے زلیخا کے لیے سونے کی چوڑیاں اور انگوٹھیاں بنوائیں۔ گلے کے لیے ایک نکلس بھی لیا۔ اب وہ پوری طرح لیس تھا۔ ایک دن وہ اپنے گھر میں اوپر پیڑھی پر بیٹھا کھانا کھانے لگا تھا کہ نیچے سے کسی عورت کے بین کرنے جیسی آواز آئی۔ وہ اسے پکار رہی تھی اور ساتھ ساتھ کوسنے بھی دے رہی تھی۔ شیدے نے اُٹھ کر کھڑکی میں سے نیچے جھانکا تو ایک بڑھیا تھی جو اُس کے محلے کی نہیں تھی اُس نے گردن اُٹھا کر اوپر دیکھا اور پوچھا کیا تم ہی شیدے ہو‘‘

’’ہاں ہاں‘‘

’’خدا کرے نہ رہو اس دُنیا کے تختے پر۔ تمہاری جوانی ٹُوٹے۔ تم پر بجلی گرے‘‘

شیدے نے کسی قدر غصے میں بڑھیا سے پوچھا بات کیا ہے؟‘‘

بڑھیا کا لہجہ اور زیادہ تلخ ہو گیا

’’میری بچی تم پر جان چھڑکے اور تمھیں کچھ پتا ہی نہیں‘‘

شیدے نے حیرت سے اُس بڑھیا سے سوال کیا کون ہے تمہاری بچی؟‘‘

’’زُلیخا اور کون؟‘‘

’’کیوں کیا ہوا اُس کو؟‘‘

بڑھیا رونے لگی

’’وہ تم سے ملتی تھی، تم غنڈے ہو، اس لیے ایک تھانیدار نے زبردستی اُس کے ساتھ اپنا منہ کالا کیا۔ ‘‘

شیدے کے ہوش و حواس ایک لحظے کے لیے غائب ہو گئے۔ مگر سنبھل کر اُس نے بڑھیا سے پوچھا کیا نام ہے اس تھانیدار کا؟‘‘

بڑھیا کانپ رہی تھی

’’کرم داد۔ تم یہاں اُوپر مزے میں بیٹھے ہو بہت بڑے غنڈے بنے پھرتے ہو۔ اگر تم میں تھوڑی سی غیرت ہے تو جاؤ اور اُس تھانیدار کا سر گنڈاسے سے کاٹ کے رکھ دو‘‘

شیدے نے کچھ نہ کہا کھڑکی سے ہٹ کر اُس نے بڑے اطمینان سے کھانا کھایا۔ پیٹ بھر کے دو گلاس پانی کے پیے اور ایک کونے میں رکھی ہوئی کلہاڑی لے کر باہر چلا گیا۔ ایک گھنٹے کے بعد اُس نے زُلیخا کے گھر دروازے پر دستک دی۔ وہی بڑھیا باہر نکلی۔ شیدے کے ہاتھ میں خون آلود کلہاڑی تھی اُس نے بڑے پُر سکون لہجے میں اُس سے کہا

’’ماں۔ جوکام تم نے مجھ سے کہا تھا کر آیا ہوں۔ زُلیخا سے میرا سلام کہنا۔ میں اب چلتا ہوں۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ سیدھا کوتوالی گیا اور خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ (۳۰؍ مئی ۵۴ ؁ء)

سعادت حسن منٹو

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے