شعورِ ذات سے اُبھرو مقامِ ذات کو پاؤ

شعورِ ذات سے اُبھرو مقامِ ذات کو پاؤ
خرد کو چھوڑ دو تنہا ، جنوں کی آگ سُلگاؤ
رہو دھرتی کے مسکن میں مگر پرواز مت چھوڑو
کبھی عرشِ بریں دیکھو ، کبھی تاروں کو چھو آؤ
تمہیں بخشا گیا ہے دل ، عطا تم کو ہوئیں آنکھیں
جلاؤ جوت آنکھوں کی ، دلوں میں روشنی پاؤ
تمہاری ذات کے ریشے، چنے کس نے نفاست سے؟
جو اپنی ذات میں اُترو، خدا کی ذات کو پاؤ
یہاں سورج ہتھیلی پر اُتر آئے تو چہ معنی؟
اگر تابِ نظارا ہو تو کوہِ طور تک جاؤ
ابھی کتنے جہانوں میں تمہاری بازیابی ہے
غبارِ رہ میں ہیں تارے انھیں قدموں تلے لاؤ

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے