شمع کے ساتھ ستارے بھی بُجھا جاتا تھا

شمع کے ساتھ ستارے بھی بُجھا جاتا تھا
وہ مجھے شام زدہ کر کے چلا جاتا تھا
سخن آغاز تری نیم نگاہی سے ہوا
ورنہ مجھ میں کوئی خاموش ہوا جاتا تھا
کشتیوں والے کہیں دور نکل جاتے تھے
صاف پانی میں کوئی رنگ ملا جاتا تھا
زنگ آلودہ بدن کر کے چلے آتے تھے
گہرے پانی میں جنھیں بھیج دیا جاتا تھا
اب بتاتے ہیں وہاں خون بہیے جاتا ہے
میرا ہم خواب جہاں تیغ چھپا جاتا تھا
میں عزا خانہ ِ گمنام تھا جس میں فیصل
وقت بے وقت بہت گریہ کیا جاتا تھا
فیصل ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے