شام سے ذرا پہلے

شام سے کہیں پہلے

اضطراب کی کلیاں

شاخِ جاں سے پھوٹی تھیں

آرزو کے ہرکارے

دلفریب بستی سے

رنگ اور مستی کے

سب پیام لائے تھے

شوق سے لدی ڈالی

جھوم جھوم چلتی تھی

کیسی اجنبی خواہش

خون میں مچلتی تھی

اور رگوں میں ہر لحظہ

اک فشار رہتا تھا

دُور کے مسافر کا

انتظار رہتا تھا

شام سے ذرا پہلے

صحن گل میں خوشبو نے

دھوم کیا مچائی تھی

سرخ سرخ پھولوں نے

دلگداز راہوں میں

آگ سی لگائی تھی

ڈھلتی دھوپ کا سایہ

شاخ سے لپٹنے کو

بے قرار رہتا تھا

اجنبی مسافر کا انتظار رہتا تھا

شام کے دریچوں سے

دلفریب بستی کا

رنگ اور مستی کا

کچھ نشاں نہیں ملتا

رخصتی کے سب منظر

در بہ در اترتے ہیں

ٹنڈ منڈ شاخوں پر

لمحے بین کرتے ہیں

شام ڈھلتی رہتی ہے

پھیلتے اندھیرے سے

چپکے چپکے کہتی ہے

دل نہ جانے کیوں ہر دم

سوگوار رہتا ہے

دُور کے مسافر کا

انتظار رہتا ہے

آفٹر بلاسٹ

نہیں نہیں

یہ جھوٹ ہے

دھڑک رہے تھے ہم یہاں

یہیں کہیں

یہیں کہیں پہ ان حسین پتیوں سے

کھیلتی رہی تھیں شوخ تتلیاں

اسی جگہ جھکی ہوئی تھی شاخ گل

کہ کھولتی ہو پیچ و خم

ہوائے مشک بار پر

ابھی ابھی تو بُن رہے تھے خواب ہم

حسین زندگی کے خواب

تیرتے تھے دیر تک

فضاؤں میں ، ہواؤں میں

یقیں نہ ہو

یقیں نہ ہو تو نیلگوں

ہوا کو چھو کے دیکھ لو

دھڑک رہے تھے ہم یہاں

یہیں کہیں

گلناز کوثر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے