Shakh Benamoo Per

شاخ بے نمو پر بھی عکس گل جواں رکھنا

آ گیا ہمیں عالی دل کو شادماں رکھنا

بے فلک زمینوں پر روشنی کو ترسو گے

سوچ کے دریچوں میں کوئی کہکشاں رکھنا

رہرو تمنا کی داستاں ہے بس اتنی

صبح و شام اک دھن میں خود کو نیم جاں رکھنا

کار و بار دنیا میں اہل درد کی دولت

سود سب لٹا دینا پاس ہر زیاں رکھنا

اس کی یاد میں ہم کو ربط و ضبط گریہ سے

شب لہو لہو رکھنی دن دھواں دھواں رکھنا

عشق خود سکھاتا ہے ساری حکمتیں عالؔی

نقد دل کسے دینا بار سر کہاں رکھنا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے