شجر شاخوں کو جب سے کھا رہے ہیں

شجر شاخوں کو جب سے کھا رہے ہیں
پرندے غم سے مرتے جا رہے ہیں

جنہیں دریا تلک میں لے کے آیا
مجھے وہ نیکیاں گنوا رہے ہیں

میں کیوں بیزار سا رہنے لگا ہوں
ادھورے خواب کیونکر آ رہے ہیں

اجالے سے نہیں بنتی ہماری
چراغوں کو یہی سمجھا رہے ہیں

ترے ہم نام سے ہم بات کر کے
اداسی کو ذرا بہلا رہے ہیں

وہ میرا سامنا کیسے کریں گے
جو میرے سائے سے گھبرا رہے ہیں

ہمارا عکس ہم کو ڈھونڈ لے گا
اگرچہ آئنے الجھا رہے ہیں

ذرا اوقات سے باہر ہوا ہے
جسے اوقات میں ہم لا رہے ہیں

احامر منزلوں کی چاہ کب ہے
فقط ہم راستے سلجھا رہے ہیں

رانا عثمان احامر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے