منتشر کرنے والا شاعر

منتشر کرنے والا شاعر
”محبت بدلتی رہتی ہے“ اپنے شجاع کا یہ شعری مسودہ جب تلک مرے ہاتھ میں بند تھا مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ یہ کوئی روائتی محبت اور اس کے بدلنے کا تذکرہ ہو گا لیکن اس کے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ شجاع دو دلوں کی محبت کا تذکرہ نہیں بلکہ لفظِ محبت پر بحث کر رہا ہے جو اپنے اندر بہت وسعت لئے ہوئے ہے۔ شجاع کی غزل پڑھتے ہوئے مراذہن یوں منتشر ہونے لگا جیسے کسی خاموش تالاب میں کنکر پھینک دیا گیا ہو۔محبت کی وہ ساری باتیں یاد آنے لگیں جو کسی نہ کسی حوالے سے مرے ذہن پر نقش تھیں یا ہیں۔ مجھے خلیل جبران کی کچھ کچھ باتیں وہ یا د آئیں جو کہ محبت بدلتی رہتی ہے کے فلسفے پر صادق آتی ہیں کہا گیا کہ
”محبت جب تمہیں اپنے پروں میں لپیٹ لے تو لپٹ جاؤ، اور اس تلوار کی نوک کو بھول جاؤجو پردوں میں پوشیدہ ہے۔ محبت کی آواز کا یقین کرو خواہ وہ آواز تمہارے خوابوں کو منتشر کر دے۔ محبت اسی سر پر تاج رکھتی ہے جس کو سولی چڑھا دیتی ہے۔ محبت تمہیں عریاں کرنے کے لیے اس طرح جھاڑتی ہے جس طرح شاخیں دانہ نکالنے کے لیے جھاڑی جاتی ہیں۔محبت قبضہ نہیں کرتی نہ قبضہ کرنے دیتی ہے اس لئے کہ محبت خود بھی اپنے لیے بے بس ہے۔ ”محبت تم کو کچھ نہیں دیتی سوائے اپنے۔ محبت تم سے کچھ نہیں لیتی سوائے اپنے“ مجھے یقیں ہے کہ اس خوبصورت شعری مجموعے کو پڑھتے ہوئے ہر وہ شخص جس نے محبت کی ہے ایک بار ضرور منتشر ہو گا۔ چند ساعتوں کے لیے ہی کیوں نہ ہو اور محبت تو ہر شخص کرتا ہی ہے۔
افضل شریف صائم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے