شاعرِ وقت

جگمگاتے ہوئے خواب سب

تیری بے تاب پلکوں پہ سایہ کریں

حرف کی جھلملاتی ہوئی تتلیاں

تیری انمول پوروں کو چھو کر چلیں

پھوٹتی ہی رہیں

شاعرِ وقت تیرے کسی

نخلِ احساس سے کونپلیں

اپنی مٹی کی نمناک خوشبو میں

سمٹا ہوا

تُو مہکتا رہے

زندگی کے کسی بحر ظلمات میں

ایک دل کی طرح

تُو دھڑکتا رہے

شعر کہتا رہے

گیت لکھتا رہے

شعر کہتا رہے

گیت لکھتا رہے

گیت ایسے لکھے

کہ نہ صرف اس صدی کا ہی

حصہ بنے

شاعر وقت تُو

آنے والے زمانوں کا حصہ بنے

گلناز کوثر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے