معاصر اُردو غزل میں شاہد ذکی کی تازہ کاری

معاصر اُردو غزل میں شاہد ذکی کی تازہ کاری

قیام پاکستان بالخصوص ۶۰ءکی دہائی کے بعد اردو غزل میں انقلابی تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ۷۰ء کی دہائی میں مارشل لا اور بھٹو کی پھانسی سے مزاحمتی عناصر ورد عمل کے ایک نئےدور کا آغاز ہوا۔ ۸۰ء کی دہائی میں رو نما ہونے والے غزل گو شعرا کی کھیپ بھی بڑی زرخیز ہے۔ ان تین دہائیوں میں کچھ غزل گوؤں نے مخصوص الفاظ ،علامات اور تلازموں کے استعمال سے عربیShahid Zaki عجمی روایت کو نئے سرےسے متعارف کرانے کی کوشش کی۔ ظفر اقبال، شکیب جلالی اور شہزاد احمد سے شروع ہونے والے غزل کے اس نئے دور میں اردو غزل نئے مزاج، ذائقے،اسلوب اور موضوع سے آشنا ہوئی۔ احمد ندیم قاسمی، ظفر اقبال، منیرنیازی ، شہزاد احمد اورا دا جعفری نے جدید اردو غزل کی روایت کو فروغ دیا اور ایک عرصہ غزل پر قبضہ جمائے رکھا۔ احمد فراز، محسن نقوی، امجد اسلام امجد، وزیر آغا، خورشید رضوی، ریاض مجید، انور مسعود، پروین شاکر، افتخار عارف، مرتضیٰ برلاس، عطا الحق قاسمی، عدیم ہاشمی، خالد احمد، نجیب احمد، خالد شریف، سلیم کوثر، سحر انصاری، فہمیدہ ریاض ، اعتبار ساجد، ثمینہ راجہ، عباس تابش،صابر ظفر، فخر زمان اور جواز جعفری جیسے شعرا جب غزل میں وسعت ،ایمائیت ،اشاریت اور رمزیت کا نیا انداز پیدا کر چکے تھے تو شاہد ذکی نے شعری افق پر آنکھ کھولی۔ شاہد ذکی سے پہلے ان شعرا کی آوازیں معتبر مقام ومرتبے کو پہنچ چکی تھیں۔ غزل کی اس توانا روایت میں اپنا تخلیقی وفور ،نئی صلاحیتوں اور تازہ کاری کے جوہر دکھانا کوئی کارِ آسان نہیں تھا۔ اردو ادب کے قارئین کو یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ یہ شعرا فکری وفنی حوالے سے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ سب شعرا اپنی اپنی ذات میں غزل کا ایک دبستان ہیں۔
جدید اردو غزل کی روایت ظفر اقبال کے بعد یکسانیت اور جمود کا شکار ہونے لگی تو عباس تابش نے اس یکسانیت اورجمود کو توڑکر غزل کے لیے نئی راہیں متعین کیں۔عباس تابش نےShahid Zaki And Dr Sheraz کمال ہنر مندی سے غزل میں نئے مضامین بھر دیے ہیں۔ظفر اقبال ، خورشید رضوی اور عباس تابش کی حیثیت واہمیت اپنی جگہ لیکن شاہد ذکی نے اکیسویں صدی کی اولین دودہائیوں میں غزل میں ایک تازہ کاری کر کے اسے ایک اور نئی نہج کی طرف موڑ دیا ہے۔ انھوں نے اپنے پیش رو اور معاصر شعرا کا تتبع کرنے سے اجتناب برتا ہے اس لیے آج ان کی غزل کا منفرد رنگ وآہنگ معاصر اردو غزل پر غالب دکھائی دیتا ہے۔ شاہد ذکی فطری ظہور کے شاعر ہیں ،ان کی تازہ کاری کا ہنرانھیں معاصرین میں ممتاز وممیز کرتا ہے۔ظفر اقبال کے بعد عباس تابش کو ایک عرصے تک غزل کی آبرو سمجھا جاتا رہا ۔اب شاہد ذکی نے غزل میں نئے مضامین اور اسلوب کے کئی روشن امکانات پیدا کر دیے ہیں۔
شاہد ذکی کے معاصرین انجم سلیمی،اختر عثمان،فیصل عجمی، شہزاد نیر،حسن عباسی ،شاہدزمان،شکیل جاذب،رحمٰن فارس اور عاطف کمال رانا کی غزل کا لب ولہجہ بھی کافی اہم اور معتبر مقام رکھتا ہے ۔ ان معاصر شعرا کے ہوتے ہوئے اب یہ لگنے ہی والا تھا کہ اردو غزل عباس تابش پر آ کر ٹھہر گئی ہے تو اس منظر نامے میں شاہد ذکی کی تازہ غزل ٹھہرے ہوئے پانی میں کنکر مار کر بے شمار لہریں پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ اس ضمن میں شاہد ذکی کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
کافی نہیں ؟ کہ چہرے سے چہرے اتار دوں
تُو چاہتا ہے میں ترے کپڑے اتار دوں

دریائے سست میرے تموّج کے ساتھ چل
ایسا نہ ہو تجھے میں کنارے اتار دوں

بچے جوان اور شجر بوڑھے ہو گئے
اب وقت ہو چلا ہے کہ جھولے اتار دوں

شاہد ذکی کی اس غزل کے تمام اشعار تازہ کاری کی عمدہ مثال ہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ غزل انھوں نے تازہ کار شاعروں اور دوستوں کے لیے کہی ہے۔ اس غزل میں شاہد ذکی نے الفاظ کا چناؤ نئے طریقے سے کیا ہے۔ ‘‘چہرے سے چہرے‘‘ اتارنا کتنا نیا لگ رہا ہے۔ اس سے انھوں نے مفہوم نکالا ہے کہ لوگ ایک چہرے کے پیچھے کئی چہرے چھپائے بیٹھے ہیں۔ یہاں ظاہر کچھ نظر آتا ہے اور باطن میں کچھ ہوتا ہے۔ آج کا انسان کئی روپ دھار چکا ہے۔ شاہد ذکی نے ریاکاری اورمنافقت کرنے والوں کی سخت مذمت کی ہے۔ یہاں دوسرے مصرع میں ‘‘کپڑے اتارنے’’ کو بھی کس قدر نئے انداز میں برتا گیا ہے۔ ناصر کاظمی نے تو کپڑے محبوب کے لیے بدلے ہیں لیکن شاہد ذکی نے کپڑے اتارنے کے الفاظ لا کر نئے مفاہیم پیدا کیے ہیں۔ دریا کو کنارے اتارنا بھی بالکل نیا ہے ۔بچے جوان اور شجر بوڑھے ہونے سے مراد یہ لیا گیا ہے کہ انسان کی زندگی کتنی تیز رفتاری کے ساتھ گزر رہی ہے۔ وقت کتنی جلدی بدل جاتا ہے۔ انسان کی یہ فانی عمر چند سالوں کی ہے۔ بچہ جوان ہو کر بوڑھا ہو گیا ہے یعنی زندگی کا سورج غروب ہونے کو ہے۔
شاہد ذکی نے اپنی غزلوں میں جابجا تازی کاری کی ہے۔انھوں نے معاصر اردو غزل کو نئے راستوں اور امکانات کی طرف گامزن کر دیاہے۔ ان کی شاعری میں تازہ کاری کا تسلسل دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ محض مصرعے میں پہلو تراشی نہیں کرتے بل کہ پرانی اور دہرائی گئی باتیں نئے انداز اور نئےمفاہیم کے تناظر میں کرتے ہیں۔ان کی غزل جدید رنگ وآہنگ کی آئینہ دار ہے۔ جس غزل کو بھی پڑھیں اسی سے تازہ کاری کی خوشبو آتی ہے۔انھوں نے نئے مضامین نئے انداز سے باندھے ہیں۔ اور پرانے مضامین دہراتے ہوئے تازہ کاری کی ہے۔ یہ اشعار دیکھیے:
بس روح سچ ہے باقی کہانی فریب ہے
جو کچھ بھی ہے زمینی زمانی فریب ہے

اب شام ہو گئی ہے تو سورج کو روئیے
ہم نے کہا نہ تھا کہ جوانی فریب ہے

شاہد ذکی کی یہ غزل انسانی رویوں کی ترجمانی کرتی ہے۔ انسان کو اپنے عروج ،عہدے ،منصب اور مال ومتاع پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ انسانی زندگی کودوام حاصل نہیں ۔انسان کی روح سچ ہے اور باقی زمین اور زمانے میں جو کچھ بھی ہے سب فریب اور سراب نما ہے۔عروج کے بعد زوال ہے ،جوانی کے بعد بڑھاپا ہے۔ یہ انسانی زندگی کی حقیقت ہے ،زندگی کا سورج خواہ کتنا ہی روشن کیوں نہ ہو آخر اسے غروب ہونا ہی ہے۔ شاہد ذکی ایک حقیقت پسند شاعر ہیں، ان کے شعری فلسفہ میں آفاقیت کا عنصر بہت زیادہ ہے۔ان کی غزلوں میں موضوعاتی رنگا رنگی ملتی ہے۔انھوں نے روایتی اندازِ سخن میں پہلو تراشی نہیں کی بل کہ اظہار کی نئی راہیں متعین کی ہیں۔
شمعِ ایماں ترے چوگرد اندھیرا ہے بہت
تو کہاں منبر و محراب میں الجھی ہوئی ہے

رشتۂ رزق بس اک جسم پہ موقوف نہیں
نسل در نسل نوالے کا اثر کھلتا ہے

معزول جو نہیں ہوا سردار اُسے نہ کہہ
دستار اُسے نہ کہہ جو اچھالی نہیں گئی

مجھ میں غم یک رنگیٔ زہراب سے آیا ہے
صحرا مرے باغوں میں سیلاب سے آیا ہے

سوچا ہے اسے شاہدؔ دشمن کے لیے رکھ دوں
میرے لیے جو تحفہ احباب سے آیا ہے

ان اشعار میں فکری وفنی تازہ کاری بدرجہ اتم موجود ہے۔ شاہد ذکی نے کمال ہنر مندی سے منفرداور بے مثال اسلوب تراشا ہے۔ انھوں نے مذہبی ،سماجی،سیاسی اور معاشی مسائل کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ہمارے ایمان کی حالت بہت ناگفتہ بہ اور عقیدے بھی کمزور ہوتے جا رہے ہیں کیوں کہ ہمارے مذہبی پیشوا صرف اور صرف فرقہ پرستی میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس فرقہ پرستی کے چلن نے مسلمانوں کے ایمان اور عقیدے کو کمزور کر دیا ہے۔ ہمارا دین مساجد اور مسالک میں بٹا ہوا ہے،ہر مسلک کی الگ الگ عبادت گاہ ہے۔ ہمارا دین وایمان منبر ومحراب میں الجھا ہوا ہے۔آدمی کو اپنا رزق حلال طریقے سے کمانا چاہیے کیوں کہ رزق حلال کمانا عین عبادت ہے۔ اگر ناجائز طریقے سے کمایا ہوا رزق اولاد میں منتقل کیا جائے تو اولاد کی پرورش اور تربیت اچھی نہیں ہو گی۔ ایسا رزق کھانے سے کبھی بھی اچھے انسان پیدا نہیں ہوں گے کیوں کہ نوالے کا اثر نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔آدمی کو چاہیے کہ حلال ذرائع سے کمایا ہوا رزق اپنی اولاد کو کھلائے۔شاہد ذکی نے سیاسی موضوعات کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے۔ پاکستان میں اکثر حکمرانوں کو ان کے دور اقتدار میں معزول کر دیا جاتا ہے۔ ان پرکرپشن سمیت کئی طرح کی الزام تراشی کی جاتی ہے۔ شاہد ذکی نے ایسے جمہوری سسٹم کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ وہ سردار نہیں ہو سکتا جسے معزول نہیں کیا گیا ہو اور وہ دستار ہی کیا جو اچھالی نہ جائے۔شاہد ذکی نے اپنے اشعار میں عہد حاضر کے سماجی رویوں کی بات کی ہے۔شاہد ذکی محبت بانٹنے والا شاعر ہے، وہ دشمن کا بھی خیر سگال ہے۔
شاہد ذکی کی غزل فنی حوالے سے بے حد پختہ اور تازہ ہے ،ان کی مصرع سازی نہایت اعلا وارفع ہے۔ شعر کی بنت، نشست وبرخاست ،تلازمے،تراکیب،تشبیہات،استعارات اور تلمیحات بہت ہی مناسب نبھائے گئے ہیں۔ وہ شعر بسر کرتے ہوئے شعر کہتے ہیں یوں لگتا ہے کہ جیسے لفظوں کو پیس پیس مصرعے بنائے ہوں۔ شاہد ذکی کا یہی اسلوب ان کے شعری مقام و مرتبے میں اضافہ کرتا ہے۔ اس ضمن میں یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
اس طرف دیپ اُدھر موجِ ہوا بنتی ہے
اور پھر ایک تصادم کی فضا بنتی ہے

عشق میرا ہے سو تم اس سے کنارہ کر لو
جرم میرا ہے سو میری ہی سزا بنتی ہے

خوش ہوں میں خشک نوالے پہ کہ محنت کا صلہ
بھیک میں بخشے ہوئے پھل سے کہیں اچھا ہے

جب کہیں کچھ نہ رہا نیست نے پوچھا کوئی اور؟
دکھ خموشی کی دراڑوں سے پکارا ، دکھ ہے

روز روتے ہوئے بچوں کا زمیں پر آنا
کوئی سمجھے کہ نہ سمجھے یہ اشارہ دکھ ہے

داغِ فریب فتح کے ماتھے پہ کیوں لگائیں
ہم جنگ جیت سکتے ہیں سازش کیے بغیر

مجھ بےبصر کو رشک سے تکتے ہیں بابصر
آزارِ شب مرے لیے آزارِ شب نہیں

شاہد ذکی کے اشعار ان کے معاصرین سے الگ اور منفرد دکھائی دیتے ہیں۔ وہ جدّت سے جڑے ہوئے نئے لہجے کے شاعر ہیں۔ان کا رنگ وآہنگ اور طرزِ ادااکیسویں صدی کے غزل نگاروں سے قدرے مختلف ہے۔ اس بات کا اندازہ ان کے لفظوں کے انتخاب سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے کس طرح نئے انداز سے الفاظ کا چناؤ کر کے مصرعے تشکیل کیے ہیں۔ شاہد ذکی نے اپنی شاعری میں علمِ بیان کی کئی اصطلاحات کا استعمال کیا ہے۔ وہ شعوری طور پر تشبیہ ،استعارہ،صنائع بدائع، تکرار لفظی ،صنعتِ تضاد، تجربات، تلمیح، سہلِ ممتنع،تخلص،فارسی تراکیب،مفررس شاعری،چھوٹی بڑی بحور،طویل ردیف، ضرب المثل اور استفہامیہ لہجہ جیسی صنعتوں کا استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے دیپ اور موجِ ہوا کا تصادم بڑی خوب صورت مہارت سے کرایا ہے۔دوسرے شعر میں لفظ‘‘ سو’’ کی تکرار بھی عمدہ ہے۔ عشق پر سزا کو نئے انداز میں نبھایا ہے۔‘‘دکھ’’ اور ‘‘سمجھے’’ کی تکرار سے اشعار میں غنائیت پیدا ہوئی ہے اور مصرعے میں شعریت اور حسن پیدا ہوا ہے۔شاہد ذکی نے اپنے شعر میں لفظ‘‘بے بصر اور بابصر’’ اور ‘‘آزارِشب’’ کی تکرار کو بہت ہی مناسب انداز میں نبھاتے ہوئےاپنی بات اور نفسِ مضمون کے تقاضے پورے کیے ہیں۔شاہد ذکی نے اشعار اپنے خاص رنگ میں رنگ کر تخلیق کیے ہیں اور کہیں بھی معیار واعتبار کا دامن نہیں چھوڑا۔
بھیج کر ابرِ منافق مری جانب شاہدؔ
میرا دریاؤں سے ایمان اٹھایا گیا تھا

چھو کے گزرا ہے وہ طیارۂ نابود مجھے
اور شہپر مرے پیکر سے اٹھا لے گیا ہے

یہ دودھ کوزہ ٔ آلودہ کے لیے نہیں ہے
میں ہر کسی سے تری گفتگو نہیں کروں گا

شاہد ذکی نے اپنی غزلوں میں تمام صنعتوں کا استعمال بڑی خوب صورتی سے کیا ہے ان کے استعارے محض استعارے نہیں بل کہ فکر وخیالات کی ترسیل اور معنی ومفہوم کا نام ہیں۔ انھوں نے منفرد ترکیب سازی بھی کی ہے۔ انھوں نے زبان وبیان میں مکمل ہنر آفرینی دکھائی ہے۔ شاہد ذکی نے خودکلامی اور مکالماتی انداز بھی اپنایا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت اور حسن وعشق کا ذکر بڑی نزاکت کے ساتھ ملتا ہے۔ وہ ہجر وہجرت، تنہائی ونارسائی اور سوزوگداز کی باتیں بھی کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں نقل مکانی، بے بسی اور بے گھری کا ذکر بھی موجود ہے۔ ان کی غزلوں میں سمندر، دریا،جھیل، ناؤ ،دشت، باغات،پرندوں، پھول،چاند،تارے اور زمین وآسمان کے حسین اور دلکش مناظر نظر آتے ہیں۔ان کی شاعری میں انا پرستی اور خود پسندی کا عنصر بھی شامل ہے۔ شاہد ذکی کے کلام میں یہ انانیت اور خود پسندی شاید ان کی خود اعتمادی کی وجہ سے ہے۔ ان کی شاعری میں موت وحیات کا فلسفہ بھی ہے اور وہ اخلاقی اقدار کی بات بھی کرتے ہیں۔ شاہد ذکی نے معاصر اردو غزل میں بے حدتازہ کاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ راقم الحروف نے شاہدذکی کی شاعری میں تازہ کاری دیکھی ہے۔ آپ بھی شاہد ذکی تازہ کاری کے چند نمونےملاحظہ کیجیے اور مجھے اجازت دیجیے:

وفورِ درد کو احساس ہے میں جانے والا ہوں
بہت کم وقت میرے پاس ہے میں جانے والا ہوں

در و دیوار کی حالت سے اندازہ لگا لیجئے
کہیں جالے کہیں پر گھاس ہے میں جانے والا ہوں

ریشم الجھا ہوا ہے جھاڑی میں
اور میں تیرے خدوخال کے بیچ

ہے بگولے کا حسن گردش میں
اور درویش کا دھمال کے بیچ

نظارگی نما ہیں نظر کی طرح نہیں
ہم اہلِ خواب اہلِ خبر کی طرح نہیں

میں رقص میں ہوں تا کہ مرا غم چھپا رہے
اے مطربہ میں نغمہ سرائی سے خوش نہیں

عزتِ نفس کی تضحیک نظر آتی ہے
اب محبت بھی مجھے بھیک نظر آتی ہے

گلوں میں رنگ نہ ہو ذائقہ ثمر میں نہ ہو
نمود و نام کی خواہش اگر شجر میں نہ ہو

میں چاہتا ہوں کہ جب آخری اُڑان بھروں
مرا وجود مخل میرے بال و پر میں نہ ہو

یہ جو بادل ترے ہونٹوں کی طرف دیکھتے ہیں
مسئلہ یہ ہے کہ اک رنگ دھنک میں کم ہے

ڈاکٹر ساحل سلہری/ سیالکوٹ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے