شفق کی آگ کہانی کوئی سنانے لگی

شفق کی آگ کہانی کوئی سنانے لگی
کسی کے خون کی بو راستوں سے آنے لگی
ملی ہے ایک زمانے کو روشنی جن سے
ہوائے دہر وہی مشعلیں بجھانے لگی
تھا جس خیال پہ قائم حیات کا ایواں
اسی خیال سے تلخی دلوں میں آنے لگی
سحر کے آئنے کا کوئی اعتبار نہیں
کلی تو دیکھ کے عکس اپنا مسکرانے لگی
میں اپنے دل کے بھنور سے نکل نہیں سکتا
تمہاری بات تو کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی
گلوں کے منہ میں زمانے نے آگ رکھ دی ہے
بہار اپنا ہی خوں پی کے لڑکھڑانے لگی
نسیم گزری ہے زنداں سے اس طرح باقیؔ
شکست دل کی صدا دور دور جانے لگی
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے