میری شادی کرادو

کسی دورکی کہانی ہے کہ ایک شہرمیں چارمحلے تھے۔ ایک مخصوص دورانیہ شہراورچاروں محلوں کے الگ الگ سربراہ منتخب کیے جاتے تھے۔ ان کاسربراہ منتخب کرنے کا طریقہ بھی بڑادل چسپ ہے۔ سربراہ چاہے کسی محلہ کاچنناہوتا یاشہرکا۔ سربراہ بننے کے جتنے افرادبھی امیدوارہوتے توشہراورمحلے والے ان کی ایک کھلے میدان میں شادیاں کرادیتے۔ ہرامیداورکے لیے الگ الگ پنڈال بنایاجاتا۔ سربراہی شادی سے پہلے پورے شہراورمحلے میں یہ اعلان کرادیاجاتا کہ فلاں دن اورفلاں وقت فلاں میدان میں فلاں فلاں دولہاکی شادی ہورہی ہے۔ شہری اس شادی میں ضرورشرکت کریں۔ شہرجس کی شادی میں چاہیں شرکت کرسکتے ہیں۔ جس دولہاکی شادی میں سب سے زیادہ باراتی ہوتے تواس دولہاکوشہریامحلے کا سربراہ چن لیاجاتا۔ شہرکاسربراہ اورچاروں محلوں کے سربراہ مل کراس شہرکاانتظام چلاتے تھے۔ کسی کاکوئی مسئلہ ہوتا کسی کی کوئی پریشانی ہوتی، کسی کومددکی ضرورت ہوتی تویہ سربراہ اس کامسئلہ حل کرانے کی کوشش کرتے۔ بعض اوقات شہراورچاروں محلوں کے چاروں سربراہوں کے مزاج، پسندناپسند، مسائل حل کرنے کاطریقہ اوراندازایک جیساہوتا، کبھی شہرکے سربراہ اوردومحلوں کے سربراہوں کے مزاج،پسندناپسنداورمسائل حل کرنے کے طریقے آپس میں ملتے اوردومحلوں کے سربراہوں کے نہ ملتے۔ اگرکسی سربراہ سے شہریوں اورمحلہ داروں کوشکایت ہوتی۔ وہ کسی اورکوسربراہ بناناچاہتے اوراس وقت کے سربراہ کی سربراہی کادورانیہ مکمل نہ ہواہوتا تووہ کسی ایک شخص کودولہابناتے اوراسی میدان میں اس کی شادی کراتے اورشہریامحلے میں اعلان کرادیتے کہ جوشہری شہر،محلہ کانیاسربراہ چاہتاہے وہ فلاں میدان میں شادی میں شامل ہو۔ اگرآدھے شہریامحلے کے گھرانے اس شادی میں شریک ہوجاتے تواس شہریامحلہ کانیاسربراہ بنادیاجاتا اوراس وقت کے سربراہ کوگھربھیج دیاجاتا۔ ایسے ہی اس شہرکاسربراہ اوراس شہرکے چاروں محلوں کے سربراہ اس شہراوراس شہرکے چاروں محلوں کانظام چلارہے تھے۔ جس شادی میں یہ سربراہ بنائے گئے تھے۔اس شادی میں جس دولہاکی بارات میں باراتیوں کی تعدادکم تھی۔ اس دولہاکے بڑے بڑے باراتی اکٹھے ہوئے اورآپس میں مشورہ کیا کہ ہمیں اس موجودہ سربراہ کوگھربھیجناچاہیے۔اس شہرمیں جس شادی میں شہریامحلے کاسربراہ منتخب کیاجاتاتھا۔ اس میں دولہے دوسے زیادہ ہوتے ہیں۔ دو دولہوں کی شادی میں سب سے زیادہ ہوتے تھے۔ ان کے علاوہ جتنے بھی دولہے ہوتے وہ اپنے باراتیوں کولے کر ان دودولہوں میں سے کسی ایک دولہا کی شادی میں شامل ہوجاتے۔ کوئی دولہا ایک بڑے دولہے کی شادی میں اورکوئی اور دولہادوسرے بڑے دولہے کی شادی میں شامل ہوجاتا۔ اس کے بعد جس دولہے کے باراتی زیادہ ہوتے اس کوشہریامحلے کاسربراہ بنادیاجاتا۔ جس شادی میں جس دولہے کو اس کے باراتی سب سے زیادہ ہونے کی وجہ سے سربراہ بنایاجاتا اسے پہلادولہا اور جس دولہاکے باراتی اس سے کم ہوتے اسے دوسرا دولہاکہاجاتا۔ جیساکہ آپ اس کہانی میں پڑھ چکے ہیں کہ اس شہرمیں اس شہرکاپہلادولہااوراس شہرکے چاروں محلوں کے پہلے دولہے اس شہر اور چاروں محلوں کاانتظام چلارہے تھے۔ ایک دن دوسرے بڑے دولہے کی شادی میں شامل ہونے والے دولہے اکٹھے ہوئے اورآپس میں مشورہ کیا کہ اس پہلے دولہے کوگھربھیجناچاہیے۔ تمام دولہوں نے مشورہ کیاکہ ہم دوسرے بڑے دولہے کی شادی کرادیتے ہیں۔ شہرمیں اعلان کرادیتے ہیں کہ شہرکانیاسربراہ بنانے کے لیے شہرکے اسی میدان میں دوسرے بڑے دولہے کی دوبارہ شادی ہورہی ہے۔ جوشہری اس دولہے کوشہرکاسربراہ بناناچاہتاہے تو وہ اس دولہے کی شادی میں شامل ہو۔ اس مشورہ کے بعد تمام دولہوں نے مل کراورآپس می ں مشورہ کرکے شادی کادن اوروقت مقررکیا۔اس کے بعد شہرمیں اعلان کرائے۔ شادی والے دن پہلے دولہے نے جب دیکھا کہ دوسرے کے دولہے کے باراتی زیادہ ہورہے ہیں تواس نے اعلان کردیا کہ آپ لوگ شہرکانیاسربراہ چاہتے ہیں توشہر میں ایک مہینے کے بعد شادیاں کرادیتے ہیں اس میں جس دولہاکے باراتی زیادہ ہوں گے وہ شہرکانیاسربراہ ہوگا۔ دوسرے دولہے کی شادی میں آنے والے باراتیوں نے پہلے دولہے کے اس مشورہ سے اتفاق نہ کیا۔دوسرے دولہے کے باراتی زیادہ ہوگئے اس وقت تک جودوسرادولہاتھا وہ پہلادولہابن کرشہرکاسربراہ بن گیا اورجو اس وقت تک پہلادولہاتھا وہ دوسرادولہابن گیا۔اس شادی سے پہلے جوپہلادولہاتھا وہ اس شادی کے بعددوسرادولہا بن گیاتواسے یہ بات پسندنہ آئی۔ اس شہرکے شہری اس شہرکے اجتماعی،انفرادی، دیرینہ اورتازہ ترین مسائل پرآپس میں گفتگو کرتے، ان مسائل کی وجوہات پربات کرتے، ان مسائل کے ممکنہ ذمہ داروں اور ان مسائل کے حل کے مختلف طریقوں پربھی بات کرتے۔ دوسرے بڑے دولہے نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ان تمام مسائل کاایک ہی حل ہے کہ میری شادی کرا دو۔ اس کے باراتی جب اسے بتاتے کہ شہرمیں یہ ہوگیاہے شہرمیں یہ ہورہاہے تووہ دوسرادولہا ایک ہی جواب دیتا کہ اس کاایک ہی حل ہے کہ میری شادی کرادو۔دوسرے دولہے کوجب بھی کوئی مسئلہ،کوئی بات بتائی جاتی تووہ ایک ہی جواب دیتا کہ اس کاایک ہی حل ہے کہ میری شادی کرادو۔ اس شہرکی کہانی پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال سے مماثلت رکھتی ہے۔ پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کام کررہی تھی۔ اپوزیشن کی جماعتوں نے مل کرتحریک انصاف کی حکومت ختم کرنے کے لیے کوششیں شروع کردیں۔ قومی اسمبلی میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک اعتمادلائی گئی۔ اس وقت کے ڈپٹی سپیکر نے تحریک عدم اعتمادمستردکردی،صدرپاکستان نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کردی۔ جسے بعدمیں عدالت نے بحال کیا، عدالت کے حکم پر قومی اسمبلی کارروائی جہاں پررکی تھی وہاں سے شروع ہوئی۔ تحریک عدم اعتماد پرووٹنگ ہوئی جس ماحول اورجس حال میں ہوئی اس کودہرانے کی ضرورت نہیں۔ تحریک عدم اعتمادکام یاب ہوئی۔ عمران خان کی حکومت ختم ہوئی اوراپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت قائم ہوئی۔شہبازشریف وزیراعظم منتخب ہوئے۔ تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے اورپی ڈی ایم کی حکومت بننے کے بعد عمران خان نے عام انتخابات کرانے کامطالبہ شروع کردیا۔ جومسائل حکومت کی تبدیلی سے پہلے تھے وہ نئی حکومت کے آنے کے بعدبھی درپیش ہیں۔ اس وقت بھی مہنگائی تھی اب بھی وہی مہنگائی ہے۔ ملک کی معیشت کوسنبھالادینے کے لیے حکومت کوسخت فیصلے کرنے پڑے۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ بحال کرانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پردی جانے والی سبسڈی ختم کرکے قیمتیں بڑھاناپڑیں۔عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کے بعدپاکستان میں بھی حکومت نے قیمتیں کم کردی ہیں۔ عمران خان نے ہرفورم پر عام انتخابات کرانے کامطالبہ جاری رکھا۔ وہ ملک کے تمام مسائل کاایک ہی حل بتاتے رہے ہیں کہ ملک میں عام انتخابات کرائے جائیں۔ پنجاب میں ضمنی الیکشن کی کمپین کے دوران انہوں نے عام انتخابات کرانے کامطالبہ نہیں دہرایا۔
جس طرح دوسرادولہا ہربات کے جواب میں کہتا کہ میری شادی کرادواسی طرح عمران خان بھی ہرمسئلہ کاایک ہی حل بتاتے رہے ہیں کہ الیکشن کراؤ۔ اپنے اس مطالبے کومنوانے کے لیے انہوں نے شہرشہرجلسے بھی کیے۔جس میں عوام نے شرکت کرکے اس کاساتھ دیا۔ پھرانہوں نے لانگ مارچ کیا جس میں عوام نے ان کاساتھ نہیں دیا۔ وہ اپنے اس مطالبے کومنوانے کے لیے دھرنابھی نہ دے سکے۔جس وقت یہ سطورلکھی جارہی ہیں پنجاب میں بیس سیٹوں پرضمنی انتخابات میں ایک روزباقی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین ضمنی الیکشن کی کمپین کے جلسوں میں مسلسل پشین گوئی کرتے رہے ہیں کہ ضمنی انتخابات میں دھاندلی ہورہی ہے۔ بلکہ اب تووہ یہ کہہ چکے ہیں کہ دھاندلی نہیں دھاندلاہورہاہے۔دھاندلی یادھاندالاہونے کے بعدبھی وہ تمام سیٹوں پراپنی جیت کادعویٰ بھی کرتے رہے ہیں۔سوچنے کی بات تویہ بھی ہے کہ جسے جیت کااتنایقین ہواسے دھاندلی کے خدشات کااظہارکرنے کی کیاضرورت ہوگی۔ضمنی الیکشن کارزلٹ آنے کے بعد معلوم ہوگا کہ کون سی پارٹی کتنی سیٹوں پرکام یابی حاصل کرتی ہے۔ پی ٹی آئی نے زیادہ سیٹیں جیت لیں توکہاجائے گاکہ میں نہ کہتاتھا کہ ہم جیت جائیں گے اور تحریک انصاف اگرزیادہ سیٹیں حاصل نہ کرسکی توپھریہ کہاجائے گا کہ میں توپہلے ہی کہاتھا کہ دھاندلی نہیں دھاندلاہورہاہے۔عمران خان اپنے کارکنوں کوکہہ چکے ہیں کہ وہ پولنگ اسٹیشنوں پرپہرے دیں اوردھاندلی نہ ہونے دیں۔پولنگ اسٹیشنوں پرالیکشن میں حصہ لینے والی تمام پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹ توپہلے ہی موجودہوتے ہیں۔ پھرانہوں نے کارکنوں کوپولنگ اسٹیشنوں پرپہرہ دینے کاکیوں کہاہے۔ ان کوالیکشن کمیشن پربھی اعتمادنہیں ہے۔ پاکستان میں آئندہ کاسیاسی منظرنامہ پنجاب میں ضمنی انتخابات کے نتائج میں چھپاہواہے۔

محمدصدیق پرہار

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔