شب زفاف جب داغدار ہو جائے(حصہ اول)

شب زفاف جب داغدار ہو جائے(حصہ اول)

مجھے ڈاکٹر بنے تین سال ہو گئے تھے۔ میری ماں کہہ رہی تھی کہ یہ سال میری شادی کا ہے۔ کوئی لڑکی میرے دل کو بھاتی ہی نہیں تھی۔ بہت سی شعلہ، شبنم، مہتاب جبیں اردگر د موجود تھیں، میرا دل کسی پر جمتا ہی نہیں تھا۔ آج جب گھر سے نکلا تو ماں نے پھر وہی سبق یاد کروایا تھا۔

نئے دن کا آغازتھا، کھِلے کھِلے چہرے وارڈ میں موجود تھے۔ ہاؤ س جاب کرنے والوں کا نیا بیج آ یا تھا۔ اب نئے چہروں میں لڑکیوں کی تعداد مردڈاکٹرز کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ بہت سی پری پیکر، نازنیں مہ جبیں رونق افروز تھیں۔

ان میں ہی وہ موجود تھی۔ ہفت اقلیم کی شہزادی، سب سے الگ تھلگ، خوبصورت، پتلی اورلمبی، ڈاکٹرنور ریز۔ جواں، مثل گل خندان اور حسن میں مثل ماہ تاباں۔

ہلکی سی کاجل کی لکیر سے سجی کٹورا آنکھیں، تیزی سے گھومتی ہوئیں، جن میں بیک وقت بہت سے عکس ابھر کر ڈوب جاتے تھے۔ گوری گردن اور بیوٹی بونز کے نیچے سفید کوٹ کے کالر کے اندر سینے کا گلابی ابھار ہلکاہلکا نظر آرہا تھا۔ صراحی دار گردن سے لٹکتی عنابی سٹیتھوسکوپ اس بالیدگی کو جواہر و لعل و یاقوت کے نو لکھے ہار سے بھی زیادہ رونق بخش رہی تھی۔

اس کی ڈیوٹی میرے ساتھ ہی تھی۔ شوخی اور اچھل کود اس میں موجود نہیں تھی۔ کام پر بھر پور توجہ دیتی۔ اس کے بولنے کا اندازبہت ہی خوبصورت تھا۔ مریضوں سے لے کر سٹاف تک ہر کسی کے ساتھ سر اپا شفقت بن کر بات کرتی۔ کوئی مریض اگر سخن بیہودہ زبان پر لے بھی آتا تو اس کو نظرانداز کردیتی۔ لڑکیوں کے ساتھ ہنس بھی لیتی لیکن میں نے اسے کبھی کسی لڑکے کے ساتھ کھل کر بات کرتے نہ دیکھا۔

وہ آہستہ آہستہ میرے دل میں گھر کرتی جا رہی تھی۔ میں زیادہ تر اس کو اپنے ساتھ ہی رکھتا تھا۔ وہ محسوس کر رہی تھی۔ اس کی کوشش ہوتی کہ کام کے علاوہ مجھ سے دور ہی رہے۔

ایک دن وہ اپنے باپ کو لے کر آئی۔ دل کا دورہ تھا۔ تین چار دن وہ ہمارے پاس داخل رہے۔ زیادہ تروہ دونوں اکیلے ہی ہسپتال میں موجود رہتے تھے۔ ڈسچارج ہونے کے بعد انکل کو اکثرہسپتال آنا پڑتا تھا۔ میں ان کے قریب ہوتا جا رہا تھا، وہ بھی مجھ سے انتہائی پیا ر کرتے۔ ہمیشہ سیدھے میرے کمرے میں ہی آتے۔

قربتیں بڑھتی گئیں۔ میرا اس کے گھرآنا جانابھی شروع ہوگیا۔ ایک دن ہمت کر کے میں نے پوچھ ہی لیا، ”ڈاکٹر نور! آپ کی ماں؟ “

اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ایک دن کہنے لگے، ”ڈاکٹراشعر! میں دوسرے وارڈ میں جا رہی ہوں۔ “

”کیوں؟ “ میں چونک گیا۔

بولی، ”یہ لوگ میرے بارے میں عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں۔ “

پھر اس کی ڈیوٹی تبدیل ہو گئی۔

لیکن میں نے اس کے گھر جانا نہ چھوڑا۔ اس کے رویے میں بھی بے تکلفی بڑھتی جا رہی تھی۔ اگر میں ایک دو دن نہ جاتا تو انکل مجھ سے اداس ہو جاتے اور ادویات کے بہانے فون کر دیتے۔ میں تو اس کو دیکھے بغیررہ ہی نہیں سکتا تھا۔ ہم اکثر ساری ساری رات باتیں کرتے رہتے۔ اس کی ایک عادت بہت عجیب تھی۔ کبھی کبھی وہ باتیں کرتے کہیں کھو جاتی۔ کچھ دیر اس پر اداسی کا غلبہ رہتا لیکن جلد ہی خود کو سنبھال لیتی۔

ایک دن انکل سو رہے تھے۔ باتوں باتوں میں میری شادی کا ذکر آ گیا۔ میں کچھ دیر خاموش رہا۔

”کیا تم میرے ساتھ شادی کروگی؟ “ میں نے پوچھا۔

وہ خاموش ہوگئی۔ رنگ پیلا پڑ گیا۔ کاٹو تو ایک قطرہ خون کا نہ نکلتا۔ تن کا خون شاید رنگ بن کر اڑ گیا تھا۔

”یہ ناممکن ہے۔ “

”کیوں؟ “

”میں شادی شدہ ہوں۔ “ اس کے الفاظ مجھ پر بجلی بن کے گرے۔

کمرے میں اداسی چھا گئی

”کیا؟

”یہ کیا کہہ رہی ہو۔ تم شوہر دار ہو؟ “

”ہاں! یہ سچ ہے۔ “ وہ روتے ہوئے بتانے لگی۔

”میں ایف ایس سی میں تھی۔ ماں نے میرے باپ اور میری مرضی کے خلاف شادی اپنے بھائی کے بیٹے کے ساتھ طے کردی۔ ماں کے نام پر کچھ قطعہ اراضی تھا۔ چند ایکڑزمین واپس لینے کے لئے میرے ننھال نے میراخاندان تباہ کردیا۔ “

ہچکیاں لیتے ہوئے وہ کب میرے ساتھ لپٹ گئی، اسے پتا ہی نہ چلا۔

جب احساس ہوا تویک دم اٹھ کر دور جاتے ہوئے بولی۔

”ڈاکٹر صاحب، جاؤ! اپنا سکون کہیں اور تلاش کرو۔ میرے پاس دکھ ہی دکھ ہیں۔ “

شب کانٹوں کے بستر پر گزاری۔ ان گنت ارمان، ان گنت خواب ریزہ ریزہ ہو گئے تھے۔ سارا دن کام میں دل نہ لگا۔ مضمحل شام کے بوجھل لمحات گزارنا مشکل ہو رہا تھا۔ تھکے تھکے قدم اُٹھاتے ہوئے اس کے در کی طرف ہی رخ کرلیا۔

انکل کی طبیعت پہلے سے زیادہ خراب تھی۔ افسردگی کے بادل پورے گھر پر چھائے ہوے تھے۔ کافی دیر دونوں کے ساتھ بیٹھا رہا۔ وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی توانکل کہنے لگے، ”نور نے مجھے ساری بات بتائی ہے۔ “

”اس کا خاوند کہاں ہے؟ “ میں نے پوچھا۔

جواب ملا، ”بتاؤں گا۔ “

”اور ماں؟ “

”زندہ ہے۔ شادی کے بعد جب میں نے نورر ریز کوسسرال بھیجنے سے انکار کردیا تو وہ روٹھ کر اپنے بھائیوں کے پاس چلی گئی۔ “

یہ بتاتے ہوئے انہوں نے منہ دوسری طرف موڑ لیا۔

میں کافی دیر بیٹھا رہا۔ وہ آئی اور نہ ہی انکل نے کوئی بات کی۔

اگلے دن ان کی حالت اور زیادہ خراب ہو گئی۔ وہ ہمارے وارڈ میں ہی داخل ہو گئے۔ ان کی بیماری بڑھتی جا رہی تھی۔

ایک دن کہنے لگے، ”بیٹے، میری بیٹی کا دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ میں اسے ماں کے پاس بھی نہیں بھیج سکتا۔ جب کبھی میں اسے یہ کہتا ہوں، وہ اتنہائی خو فزدہ ہو جاتی ہے۔ اور کئی کئی دن اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلتی۔ “

ایک کاغذ میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہنے لگے، ”یہ اس کے خاوند کا پتا ہے۔ تم ایک باراسے مل لینا۔ “

اسی رات انکل فوت ہو گئے۔

اب وہ اکیلی رہ گئی تھی۔ میں روزانہ اس کے گھر جاتا۔ بہت دنوں کے بعد میں نے پوچھا، ”مستقبل کے بارے میں کیا سوچا ہے۔ “

”ہاسٹل منتقل ہو رہی ہوں۔ “ وہ آہستہ سے بولی۔ کافی دیر خاموشی چھائی رہی۔

، ”دکھ کی بات ہے۔ ہمت نہیں ہے۔ اگر اجازت ہو تو پو چھوں؟

اپنے بارے میں کچھ اور بتاؤ گی؟ ”

”پوچھ کر کیا کرو گے؟ “

”اپنی ماں کے بارے میں بتاؤ؟ “

”آپ دونوں اس سے کیوں نہیں ملتے تھے؟ “

وہ کافی دیر سر جھکا کر بیٹھی رہی۔ روتی رہی۔ کہنے لگی۔

”ماں میری پڑھائی کے سخت خلاف تھی۔ کہتی تھی، “ ہم نے کون سی نوکری کروانی ہے۔ ”بابا نے ماں کی ناراضگی سے ڈر کرمیری شادی کی ہاں کر دی۔ میں بھی مجبور تھی۔ میں ابھی اٹھارہ سال کی نہیں ہوئی تھی۔ ماموں کا بیٹا مجھ سے دس سال بڑا تھا۔ زراعت افسر تھا۔ امتحان کے فوراً بعد شادی ہو گئی۔ وہ رات قیامت تھی۔ مجھے کچھ پتا نہیں تھا۔ اس کی ماں نے سب لڑکیوں کو باہر نکال کر بستر کی سنہری کا مدار چادر کے اوپر سفید چادر بچھا دی۔ “

روتے روتے وہ چپ ہوگئی۔ جیسے کہنے کے لئے الفاظ ڈھونڈ رہی ہو۔

”وہ اندر آیا۔ کچھ دیر میرے ساتھ باتیں کرتا رہا۔ پھر جو ہوا مجھ میں بتانے کی ہمت نہیں، سہہ کیسے سکتی تھی۔

جب ہوش میں آئی توہسپتال کے بیڈ پرتھی۔ میری ماں اورساس لیڈی ڈاکٹر سے باتیں کر رہی تھیں۔ ماں کہہ رہی تھی، ”ڈاکٹر صاحبہ! ہم اس کو گھر لے جائیں؟ مہمان آئے ہوئے ہیں۔ ہم نے اسے ولیمہ میں بٹھانا ہے۔ “ ڈاکٹر غصے میں بولی، ”آپ کو اس کی جان کی فکر نہیں، ولیمے کی بات کر رہی ہیں۔ یہ اس قابل ہے؟ اندر لمبے لمبے چیر آئے ہوئے ہیں۔ ابھی اس کوٹھیک ہونے میں کئی دن لگیں گے۔ “

ممانی بولی، ”چیر کیسے آگئے؟

وہ بھی ماس، یہ بھی ماس۔ میرے بیٹے نے ’نفس‘ کے ساتھ بلیڈ باندھے ہوئے تھے؟ ”

ڈاکٹر غصے سے انہیں جھڑکیاں دیتی ہوئی باہر چلی گئی۔ ”

وہ بلک بلک کر رورہی تھی۔ میں نے چپ کروانے کی کوشش کی تو وہ میرے ساتھ چپک گئی۔ اس کے آنسو قمیض کے اند ر میرے سینے کے بالوں کو بھگو رہے تھے۔ دوزخ کی آگ سے ابلتا ہوا یہ پانی میرے روں روں میں گھس کرمیرے تن بدن کو جلا رہا تھا۔ یہ تپش میرے لئے ناقابل برداشت تھی اور وہ تو اس آگ میں کئی سالوں سے جل رہی تھی۔

کافی دیر کے بعد بولی۔

”میں تقریباً ایک ماہ ہسپتال میں داخل رہی۔ دو مرتبہ سرجری ہوئی۔ اس کے بعد میں اپنے گھر آگئی۔ “

کہنے لگی، ”اس لئے میں کہا تھا میں شادی نہیں کر سکتی۔ اس لفظ کو سنتے ہی میرا جسم بید کی طرح کا نپنا شروع کر دیتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب! میری جھولی میں انگارے ہی انگارے ہیں۔

جاؤ! اپنی خو شیاں کہیں اور ڈھونڈو۔

جاتے جاتے صرف ایک بات بتاتے جانا۔

تم مرد اور تمہاری مائیں ایک داغ دیکھنے کے لئے لڑکیوں کے جسم اور روح کوکیوں داغدار کر دیتی ہیں؟ ”

(اس افسانے میں لیڈی ڈاکٹر کا نو ر ریز کی ماں اور ساس سے مکالمہ، میرے الفاظ نہیں۔ ہمارے ہسپتال میں لائی گئی ایک دلہن کی ماں اور ساس کے ہیں۔ مصنف)

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے