شب کی دیوار گرا دی ہے شفق زادی نے

شب کی دیوار گرا دی ہے شفق زادی نے
دھوپ، شہ کار بنا دی ہے شفق زادی نے
لمس کرنوں کا مرے خواب چرا لیتا ہے
کیسی تصویر دکھا دی ہے شفق زادی نے؟
دل گلِ تازہ کی خوشبو سے بھرا جاتا ہے
یوں سَحر خیز ہوا دی ہے شفق زادی نے
کر دئیے دان مجھے قُرب کے سندر لمحے
اور یوں مجھ کو بقا دی ہے شفق زادی نے
حالتِ ہجر میں اشکوں کی دھواں دار فضا
رُخِ روشن سے سجا دی ہے شفق زادی نے
وہ ضیا بار تبسم میں ملے گی مجھ کو
دل میں امید جگا دی ہے شفق زادی نے
مبشّر سعید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے