صحرائے گوبی کا طلسم

صحرائے گوبی کا طلسم
صحرائے گوبی زمین کے بڑے صحرائوں میں سے ایک ہے۔ یہ صحرا اپنے حسن، وسعت، موسم اور طلسماتی ماحول کے باعث ہمیشہ سے دلچسپی اور کشش کا حامل رہا ہے۔
کہیں چٹیل میدان ہیں تو کہیں فلک بوس ریت کے ٹیلے اور پہاڑ اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں پر لاکھوں سال قدیم مخلوق ڈائنوسارزکی باقیات بھی ملی ہیں جو اس امر کی غماز ہیں کہ یہاں کبھی اس عظیم الجثہ مخلوق کی حکومت تھی۔ اس صحرا کی وسعت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا رقبہ قریب قریب تیرہ لاکھ کلومیٹر ہے جو پاکستان کے کل رقبے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کی چوڑائی آٹھ سو کلومیٹر اور لمبائی پندرہ سو کلومیٹر ہے۔ اس کی بلندی سطح سمندر سے 700 سے 1500 میٹر کے درمیان ہے۔ اتنی بلندی کے باعث یہاں کا موسم زیادہ تر سر د رہتا ہے۔
گوبی کا یہ صحرا کتنا پرانا ہے اس کے بارے میںمتعدد آراء موجود ہیں۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس کی عمر 65 ملین سال ہے۔ اس لحاظ سے یہ ہمالیہ کا ہم عمر ہے۔ شدید سردی کی بنا پر یہاں کی آبادی کا تناسب بہت کم ہے۔gobi اتنا کم کہ ایک مربع میل میں صرف تین لوگ رہائش پذیر ہیں۔ یہ صحرا شمالی چین اور جنوبی منگولیا کو گھیرے ہوئے ہے۔ موسم کی شدت کی بناء پر یہاں کے لوگوں کی زندگیوں کا دارومدار کھیتی باڑی کی بجائے مویشیوں اور دوسرے پالتو جانوروں پر ہے۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر خانہ بدوشوں کی سی زندگیاں گزارتے ہیں۔ ان کے پڑائو پانی کے ذخیروں کے قریب ہوتے ہیں۔ جب کبھی پانی کا یہ ذخیرہ ختم ہوتا ہے تو وہ اپنے خیمے اکھاڑ کر دوسرے ذخیرے کی تلاش میں چل پڑتے ہیں۔ اس طرح ان لوگوں کی زیادہ تر زندگی ہجرتوں کی نظر ہو جاتی ہے۔ یہاں وہی جانورزندہ رہ سکتے ہیں جو فطری طور پر موسم کی سختیوں کو برداشت کرنے کے عادی ہوں۔ صحرا ئے گوبی میں برفانی چیتے، کالی دم والے غزال، زہریلے سانپ، گوبی ہرن،پہاڑی بکرے،صحرائی اور جنگلی اونٹ اور کچھ دوسرے جانور شامل ہیں۔
صحرائے گوبی انتہائی خشک صحرا ہے۔ یہاں بارشیں بہت کم برستی ہیں جس کی وجہ اس کے جنوب کی سمت موجود فلک بوس ہمالیہ کے پہاڑ ہیں ۔یہ پہاڑ اس صحرا کے لیے rain shadow کا کام دیتے ہیں اور بادلوں کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ منگولین زبان میں گوبی کا مطلب بھی بارش کے بغیر یا کم بارش والا علاقہ ہے۔
صحرا کے باشندوں کی خوراک زیادہ تر پالتو جانوروں سے حاصل ہوتی ہے۔ دودھ، گوشت، دیسی گھی، لسی اور مکھن ان کی من پسند خوراک ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کے لوگ مقامی پودوں اور درختوں سے بھی خوراک حاصل کرتے ہیں۔ یہاں کے اکثر لوگوں کا پیشہ شکار ہے اور وہ ٹیلوں اور جنگلوں میں گھوم پھر کر جنگلی جانوروں کو شکار کرکے خوراک کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔یہ لوگ ایک مقامی پودےDESERT SPOON سے نکالے گئے رس کو بطور مشروب استعمال کرتے ہیں۔ یہاں سال بھر کے موسم میں خاصا فرق دیکھا جاتا ہے۔ سردیوں کا موسم انتہائی سرد ہوتا ہے۔ جنوری میں درجہ حرارت منفی چالیس سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ جبکہ گرمیوں میں شدید گرمی پڑتی ہے۔ جولائی میں پارہ پینتالیس سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔بہار کا موسم انتہائی خشک ہوتا ہے۔ جب سائبیرین ہوائیں چلتی ہیں تو موسم انتہائی سرد ہو جاتا ہے۔ دن کو کبھی کبھار شدید گرمی پڑتی ہے۔ خاص کر ان دنوں جب ہوائیں تھم جائیں۔ درجہ حرارت میں اتنا تضاد مختلف موسموں میں ہی نہیں ایک دن میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں کی زیادہ تر آبادلی منگولوں پر مشتمل ہے۔یہ صحرائی و نیم صحرائی علاقہ ریت کی نسبت زیادہ تر چٹانوں پر مشتمل ہے۔ یہ علاقہ انسان کا ابتدائی مسکن بھی تصور کیا جاتا ہے۔ 1990 کی کھدائی کے دوران پینتیس ہزار برس پرانے اوزاراور زیورات وغیرہ ملے۔
یہاں پودے دور دور تک بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ پودوں کے درمیان خشک پتھریلی یا ریتلی زمین ہوتی ہے۔ سبزہ بہت کم اگتا ہے۔ کہیں کہیں مفید جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ صحرائے گوبی میں تانبا، کوئلہ، نمک اور پیٹرولیم جیسی معدنیات وافر مقدار میں موجود ہیں۔ قدیم شاہراہ ریشم اسی صحرا میں سے گزر کر جاتی ہے جس کی وجہ سے اس صحرا کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ قدیم شاہراہ کے باعث قدیم ایشیائی باشندوں کو اس صحرا کے بارے میں صدیوں پہلے کا علم تھا۔ لیکن یورپی اس صحرا سے تیرھویں صدی میں معروف سیاح مارکوپولوکے توسط سے متعارف ہوئے۔
وقاراحمدملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے