سہمے ہوئے تھے لوگ جو خطبوں کے وار سے

سہمے ہوئے تھے لوگ جو خطبوں کے وار سے
اب بھی ڈرے ہوئے ہیں وہ تیرے مزار سے
کس واسطے ہوں بابا کے سینے سے میں جدا
کہتی رہی سکینہ یہ پروردگار سے
کرتی رہی طواف ہوا اور خامشی
جتنے جلے چراغ حسینی پکار سے
برداشت کر نہ پائے منافق لعین لوگ
اقراء باسمِ ربِّی کی لو ایک غار سے
آیا نظر نہ شکلِ پیمبر اسے کبھی
خضری میں آنکھ الجھتی رہی انتظار سے
کربل سے کوئی لائے بہتّر کی کچھ خبر
اشجار کہہ رہے تھے پرندوں کی ڈار سے
اصغر کی پیاس جب کبھی یاد آئے , دل کرے
ارشاد سانس کاٹ لوں خنجر کی دھار سے
ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے