سینے میں شوق میر کے سب درد ہو گیا

سینے میں شوق میر کے سب درد ہو گیا
دل پر رکھا تھا ہاتھ سو منھ زرد ہو گیا
نکلا تھا آج صبح بہت گرم ہو ولے
خورشید اس کو دیکھتے ہی سرد ہو گیا
بے پردہ اس کی شوخی قیامت ہے دیکھیو
یاں خاک سی اڑا دی فلک گرد ہو گیا
کشتی ہر اک فقیر کی بھردی شراب سے
اس دور میں کلال عجب مرد ہو گیا
دفتر لکھے ہیں میر نے دل کے الم کے یہ
یاں اپنے طور و طرز میں وہ فرد ہو گیا
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے