سیلن کی بددعاؤں سے دیوار بچ گئی

سیلن کی بددعاؤں سے دیوار بچ گئی
بارش تھمی تو آگ مرا دل کھرچ گئی

کچھ خواب تھے جو صرف مشقت کا فیض تھے
اور پھر ہماری آنکھ میں اک نیند جچ گئی

چڑھتی ہوئی چڑھائی کو سیڑھی کا احترام
سینے کے اس نواح میں تسکین مچ گئی

اچھی تھی انتظار کی وحشت مرے لیے
آنکھوں کی تاب ، گرد کے اندر پہنچ گئی

کچھ بدسخن بھی پیڑ کے سائے پہ مر مٹے
مجھ میں تو خیر دھوپ کی فریاد رچ گئی

علی زیرک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔