انشاء کا اعظمی کو دوسرا خط

کراچی

برادرم اعظمی صاحب، آداب

آپ کا ۵ جنوری کا لکھا خط کل ملا۔ ادھر میرا خط آپ کو مل گیا ہوگا۔ آپ کی بیماری کا جان کر بہت افسوس ہوا۔ اب آپ اپنے کو کچھ دن محنت اور مطالعے سے دور رکھیئے۔ اس میں دماغ اور اعصاب کی سکت جاتی رہتی ہے۔ دوسرے خط میں یہ سننے کا متمنی ہوں کہ آپ بالکل چاق و چوبند ہیں۔

اختر انصاری آپ کا مضمون چھاپتے ہیں تو یہ بڑی ہی شرافت ہوگی۔ بھائی میں تو اس قدر دانی پر شرمندہ ہوں۔ شاہد مہدی صاحب اور کنور صاحب میرے لئے نادیدہ ہیں لیکن اجنبی نہیں۔ ذہنی ظور پر اس لئے نہیں کہ مجھ میں کون سی بات ہے جو چاند نگر میں نہیں آگئی۔ دوسرے چوپال کی ایک ہی صحبت حجاب دور کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے وہ پرچہ بند کردیا۔ میں دور دوسرے ملک میں بیٹھا ہوں ورنہ اس کی مالی ذمہ داریوں میں شریک ہوتے اور سب مل کر اس کو گھاٹے پر چلاتے۔

جھوٹے سکوں میں بھی اٹھا دیتے ہیں یہ اکثر سچا مال
شکلیں دیکھ کے سودے کرنا کام ہے ان بنجاروں کا

بت پرستی کا خیال ترک کر دیجیئے۔ خدا نے چاہا تو سیدھے سیدھے ملاقات ہو جائے گی۔ تصویر نہ صرف یہ کہ میں چھپواتا نہیں کھنچواتا بھی نہیں ہوں۔ میرے پاس ایک بھی فوٹو ہوتا تو ضرور آپ کو بھیجتا۔ برگ گل کا پہلا پرچہ آپ نے دیکھا ہے؟ پیلے کور والا۔ اس میں ایک گروپ فوٹو ادارے کا چھپا تھا۔ اس میں میں ضرور ہوں لیکن بھائی مری تصویر بہتر ہے کا معاملہ وہاں بھی ہے۔

آج کل پریشانی میں مبتلا ہوں۔ اس کی تفصیل لکھنے سے بچتا ہوں۔ بہت دن سے کچھ نہیں لکھا۔ مجموعہ آنے کے بعد ایک نظم نقوش میں آئی تھی "ست کئے دکھ ہوئے” اور ایک افکار میں "کاسا بلنکا”۔ بستہ باندھ کے ایک طرف رکھ چھوڑا ہے۔ ہفتے عشرے بعد شاید کھولوں۔ اب تو آپ کا کاغذی پیرہن آ جائے۔

مہدی صاحب اور کنور صاحب سے سلام کہیئے۔ مہدی صاحب کے تو ایک لطف نامے کا جواب بھی مجھ پر واجب ہے۔ اچھا خدا حافظ۔ اب اور بھی کام دیکھیں بھالیں۔ خط جلد لکھئے گا۔

آپ کا
ابن انشا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے