سایۂ گُل میں رہوں محوِ خراماں ہمدم

سایۂ گُل میں رہوں محوِ خراماں ہمدم
رنگ سرمایہ ہے خوشبو مرا ساماں ہمدم
خامشی چیختی رہتی ہے مرے اندر ہی
کر نہیں پاتی سخن تجھ سے مری جاں ہمدم
میں تری راہ بھی دیکھوں تو کہاں تک دیکھوں؟
نہ کوئی وعدہ مرے پاس نہ پیماں ہمدم؟
ہاں! کبھی تجھ کو بتائیں گے ہمیں دکھ کیا ہے
ہاں! دکھا دیں گے کبھی زخمِ دل و جاں ہمدم
میرے دل کی یہ زمیں خشک نہ ہو جائے کہیں
اس لیے رکھتی ہوں تر دیدۂ و داماں ہمدم
رازِ ہستی میں سمجھ ہی نہیں پائی اب تک
کس طرح پھر میں کروں خود کو نمایاں ہمدم؟
مجھ کو مرغوب ہیں تنہائیاں میری ناہید
مجھ کو بھاتا نہیں اب مجمعِ یاراں ہمدم
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے