سوارہ

سوارہ
(مظلوم عورتوں کا گیت)
ہم اضافی پھول ہیں
بناوٹی گُلوں کی خُشک ڈالیاں
جو گُل فروش پھینکتے ہیں شام کو کسی غلیظ ڈھیر پر
ہماری زندگی کے پانیوں نے دھوئی ہیں کثیف (داغ دار) پگڑیاں
معاوضے بٹورتے ہوئے شریف وحشیوں کی ہستیاں
ہماری کم سِنی کی لُوٹتے ہیں کون مستیاں؟
ہتھیلیاں ہماری حاکموں کی چکیوں کی گردشوں میں آہ پِس گئیں
فشارِ خون سے خفیف چادریں ہی رِس گئیں
نمو پزیر فصل کی کٹائی کا جو بوجھ ہے
گھٹن سے منہ پہ سوج ہے
ہمارے پہرے دار
چوبِ قفل پہ نقب لگائیں گے
کہ خود گناہ کرکے منڈیوں میں بیچ آئیں گے
ہم ایسے ریوڑوں کا ساربان،
یہ سماج ہے
کہ ایسی باندیوں کا کوئی کل نہیں،
نہ آج ہے
اُبلتے موسموں کا (کوئی) داج ہے
خراج ہے جو دے رہی ہیں ہم ازل سے ناخداوں کو
ہمارے سر پہ جو سوار ہیں
وہ پیٹھ پہ (خطا) کے مرتکب ہوئے
ہماری چھاتیوں کی عظمتوں کے جو امین ہیں
بڑے منافقین ہیں
عرفان شہود

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے