سوال کیسا ، جواب کیسا

سوال کیسا ، جواب کیسا
محبتوں کا نصاب کیسا
وفا شعاروں کی انجمن میں
اے ناقدو ! احتساب کیسا
یہ ترکِ دنیا کا ماجرا ہے
گناہ کیسا ، ثواب کیسا
تھکی ہوئی انگلیوں پہ ہو گا
شمار کس کا ، حساب کیسا
لہو عبارت سے جھانکتا تھا
نگاہ میں تھا سراب کیسا
جلا دیے ہیں خطوط سارے
سہا ہے دل نے عذاب کیسا
اُجاڑ رستا سجا رہا ہے
ہتھیلیوں پر گلاب کیسا
سناؤ ناصر وہی حکایت
نظر میں تھا آفتاب کیسا
 
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے