سرودِعشق

سرودِعشق
اے سازشیریں آواز! اگر تجھے قدرت ہوتی کہ تُونسیمِ بہار کے زمزموں کو درختوں کی سرسبزشاخوں میں مجسّم کر دیتا اور دریا کی موجوں کے ہمہموں کو سنگستانی ساحلوں کی چٹانوں پر دُہرا دیتا۔ اگرتُوسفید کبوتروں کے نازک و ابریشمیں پروں کی پھڑپھڑاہٹوں کو صحراؤں کی بلندیوں سے نشیب کے دامن میں منعکس کر سکتا اور اُن زمرّدیں شاخوں کی طرح، جو صبح کی مستانہ ہوا کے جھونکوں سے لرز لرز اُٹھتی ہیں اُس خاموش زبان کو، جس کے ذریعے دلدادگانِ محبّت اپنے قلبی راز کا اظہار کرتے ہیں، مشتاقوں کے کانوں تک پہنچا سکتا۔ اگر تیرے بس میں ہوتا کہ تُو اپنے روح پرور نغموں سے اُس پرشکستہ روح کو، جو عشق کی رقّتوں اور حسرتوں کے اثرسے مدہوش ہو چکی ہے، ہوش میں لے آتا اور اُس مستانہ ہوا کی طرح، جو غروبِ آفتاب کے وقت، ابر کی طوفانی موجوں کے ہجوم کو، طلائی اور سرخ فام اُفق پر متحرّک کرتی ہے، اسکو ماضی کے شیریں خوابوں کی بلندیوں پر رقصاں کر دیتا تو۔۔۔۔ میرے لیے بھی ممکن تھا کہ میں تیرا ہم آواز ہو کر۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس وقت جبکہ میری سلمیٰ، گلاب کے شرابی پھولوں کی سیج پرمحوِاستراحت ہوتی۔۔۔۔۔ اُسے اپنے جوان آرزو عشق کا ایک دلگداز نغمہ سنانا، صبح کی شبنم کی طرح اُس کے، گلبرگ رخسار پر، آنسوؤں کے موتی لُٹاتا اور صبا کی طرح اُس کی حسین و شیریں روح تک اپنی فدائیت کا پیغام پہنچاتا اُس کے ملائک فریب عارضوں کے آگے سرجھُکاتا اورآہستہ آہستہ اُس کے کان میں کہتا کہ "اے میری زندگی کے درخشاں آفتاب
لے آفتاب آیا ہے تیرے سلام کو پھولوں نے مسکرا کے لیا تیرے نام کو
اُٹھ خوابِ ناز سے شہِ حسن و جمال اُٹھ
تاکہ میں تیری سیاہ و درخشاں آنکھوں میں، اپنی ہستی کی سرنوشت کا مطالعہ کروں، آنکھ اُٹھا اور کچھ دیر میری طرف دیکھو کہ تیری جانفزا نگاہیں میری خستہ و حزیں روح کے نزدیک آفتاب کی اُن اولّین شعاعوں سے زیادہ عزیز ہیں، جن کی آرزو ایک بے صبر آنکھ کا دائمی وظیفہ بنی رہتی ہے۔ ”
زبان کھول! کچھ سنا!۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ تیری دلربا آواز میرے دل پر کس قدر اثر کرتی ہے۔ تیرے شیریں لبوں سے جو کلمہ بھی ادا ہوتا ہے، کسی فرشتے کی صدا معلوم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ ایسی صدا، جو مجھے اِس دنیاسے دورکسی اور عالم میں پہنچا دیتی ہے۔ اورستاروں کے نیلگوں شبستانوں میں محوِ پرواز کر دیتی ہے جس وقت تیری دلربا آواز میرے سامعے کو حلاوتوں میں ڈبو دیتی ہے، میری شیفتہ و فریفتہ روح، اُس معبد کی طرح، جو راہبوں کے زمزمہ ہائے تقدیس کے ساتھ ساتھ، ناقوسوں کی ہم آہنگ صداؤں سے بھی معمور ہو جاتا ہے۔ ہوش میں آتی ہے اور نغمہ سرائی شروع کر دیتی ہے۔
ایک آواز، ایک فقرہ، ایک لفظ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھرگہراسکوت۔۔۔۔۔۔ میرے لیے یہی کافی ہے۔۔۔۔۔۔ جس وقت تنہائی میں، تیری دل نشین آواز سامعہ نواز ہوتی ہے، میری روح خیال کی گہرائیوں اور بے انتہائیوں تک تجھے پا لیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا تُو نے نہیں دیکھا کہ جب کوئی نہر نغمے گاتی اور زمزمے سناتی ہوئی صحنِ چمن سے گزرتی ہے۔۔۔۔۔۔ سبزہ وشاخسار کی ایک ایک پتی، اُس کی ہلکی سے ہلکی آواز کو اپنے سینے میں محفوظ کر لیتی ہے۔
تجھے اپنی آتشیں نگاہوں سے، میری روح کو شعلہ در آغوش کرنے کا خیال کیوں ہے ؟ روک! آہ، اپنی دلربا آنکھوں کو، اپنی ہوشربا نظروں کو، روک! ورنہ یہ مجھے ہلاک کر دیں گی!۔۔۔۔۔ آ، کہ ہم پہلو بہ پہلو، شانہ بہ شانہ، ہات میں ہات ڈالے۔۔۔۔۔۔۔ اُن آزاد و مسرور سبزہ زاروں میں سیرکریں، لطف اُٹھائیں، حسین و رنگین پھولوں سے دل بہلائیں۔۔۔۔۔۔ کیونکہ کوئی دن جاتا ہے کہ یہ لطیف سبزہ زار خاک میں مل جائیں گے اور یہ روح پرور پھول کملا جائیں گے۔ ایک نیلگوں اور لاجوردی رنگ، جوئبار کے کنارے ایک ٹیلہ ہے، جو اپنی تمام سرسبزیوں کے ساتھ بنت البحر کے حضور میں سرجھکائے ہوئے ہے۔ اُس کی فرسودہ سالخوردہ پیشانی پانی کی نقرئی امواج کی رفعتوں پرسایہ زن ہے دن کو آفتاب اُس پر اپنے محبت بھرے بوسے نچھاور کرتا ہے اور رات کو، نسیم کے شفقت آمیز جھونکے، اُس کے سبزہ کی ایک ایک پتی کو اہتزاز انگیز بنا دیتے ہیں۔
انگور کی ایک جنگلی اور وحشی بیل کی چھاؤں میں ایک عظیم الشان چٹان کے کنارے موجوں کی درازدستیوں نے ایک مختصر سی پناہ گاہ تعمیر کر لی ہے۔ جس میں ایک سفیدکبوترنے آشیانہ بنا رکھا ہے جہاں بیل کی پّتیوں نے ہر طرف چھاؤنی چھا رکھی ہے۔ ندی کی موجیں، رات دن اپنے شیریں زمزمے سناتی ہیں اور دلدادہ کبوتر صبح و شام، رس بھرے گیت گاتا ہے۔ نسیم شبانگاہی، اس سرسبزخلوت میں، بنفشے کی نکہتیں بکھیرتی رہتی ہے۔ درختوں کے سائے پریدہ رنگ رنگ پھولوں کے چہروں کو، سورج کے بیدرد ہاتوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ حسین گلبن کے قریب ایک چھوٹاساچشمہ پھوٹتا ہے اور کسی غم زدہ عاشق کی طرح چپکے چپکے آنسو بہاتا ہے۔
اِس مسرّت انگیز و بے خودی آمیز منظر کے قدموں میں، ندی کی سیم گوں موجیں لہراتی، گاتی اور دھوم مچاتی ہیں۔ اُس کے سرسبزدامن میں صبح کی معطّر ہوائیں خوشبوئیں برساتی ہیں اور اُس کی بلندیوں پر بلبل کی نغمہ طراز آواز، مسکراتی، چھاتی اور پھیل جاتی ہے اور بکھری ہوئی چٹانوں کی خلاؤں میں سے ایک آہ سی بلند ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔
آ کہ چلیں! اِس خلوت سرائے رنگین میں اپنا نشیمن بنائیں۔ دریا کی لازوال موجوں کے قریب اپنی دنیا بسائیں اور اُس وقت تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ آفتاب کی جفا کار شعاعوں سے، بنفشے کی پنکھڑیاں مرجھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم وہیں رنگ رلیاں منائیں!
میری آنکھوں کے تارے ! تیراآسمان وہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ چل، اُس کے سینے میں سماجا اور میری اندھیری راتوں کو اپنے نورسے روشن کر دے !
میرے طائرِ شیریں نوا! تیرا آشیانہ وہی گل زمین ہے اُڑ کر وہاں جا پہنچ! اور وہاں پہنچ کر، نالے کر، مسکرا، ہاؤ ہو میں مصروف ہو، اور نغمے سنا۔۔۔۔۔۔ ! آ کہ کچھ دیر تیرے دل ربا نغموں کی تاثیرسے، دنیا کے غموں کو بھلا دوں۔۔۔۔۔۔ بھول جاؤں اور خواب و خیال کے پرستانی اُفق پر پر پھیلاؤں۔
واحسرتا! ایک دن آئے گا کہ یہ حاسدآسمان اپنے ٹھنڈے سانسوں سے، تیرے نرم و گرم سینے کو حرکت سے محروم اور تیری جوانی کے شاد و شاداب پھول کو پژ مردہ و مغموم کر دے گا۔
ایک دن آئے گا کہ زمانے کے بے درد اور لٹیرے ہاتھ تیرے۔۔۔۔۔۔۔۔ رنگین ہونٹوں سے اُن تمام لذیذ و شیریں بوسوں کو چھین لیں گے۔۔۔۔۔۔ جو تُو نے ابتدائے شباب کی بہاروں میں، پھولوں کی طرح، مجھے عطا کیے تھے، اور اُن کی جگہ نالہ و آہ کی تلخ یادگاریں چھوڑ جائیں گے۔
ایک دن آئے گا کہ تیری مسکراتی ہوئی نرگسی آنکھیں گزرے ہوئے زمانے کی یاد میں خون کے آنسوبہائیں گی، اور تیرے شگوفہ تمثال ہونٹ بیتے ہوئے دنوں کا خیال کر کے ٹھنڈی آہیں بھریں گے۔
لیکن اُس وقت اگر تُو چاہے کہ بھولی بسری یادوں کے پردے اُٹھا کر اپنی فصلِ جوانی کی حسین تصویروں کومجّسم دیکھے اور آہوں اور آنسوؤں کے نقاب اُلٹ کر اپنے ایّامِ شباب کے نظاروں کو متشکل کرے تو۔۔۔۔۔۔۔ میرے دل کی گہرائیوں میں دیکھنا۔۔۔۔۔۔ جہاں تیراسروقامت، طویل مدتوں کے لیے بجنسہ جلوہ کناں ہے اورتیرا گلِ جوانی بے پایاں ایّام کے لیے عطر افشاں!
جب موت کا نادیدہ اور بے رحم ہات ہماری طرف بڑھے گا اور ہماری زندگیوں کی شمعوں کو ایک ایک کر کے گُل کر دے گا۔۔۔۔۔ ہماری روحیں اپنے دیرینہ مسکنوں کو الوداع کہیں گی اور ایک نئی تابندہ تر اور با شکوہ تر دنیا کی طرف سفرکرجائیں گی۔
اِس دینا میں۔۔۔۔۔۔ اِس ابدی آرامگاہ میں۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ کے لیے میرابسترتیرے بستر کے قریب بچھایا جائے گا اور ہمیشہ بچھا رہے گا اور میرے محبت آمیز ہاتھ ابد تک کے لیے تیرے بازوؤں کو اپنے اندر جذب کر لیں گے۔۔۔۔۔۔ جس طرح خزاں کے موسم میں قازیں، اپنے پرانے ٹھکانے چھوڑ کر، دور اُفتادہ سر زمینوں کی طرف پرواز کر جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اُن سر زمینوں کی طرف جو اپنا محبت بھرا آغوش وا کیے اُن کی خاطرسرگرم انتظار رہتی ہیں:۔
(لامارٹین)
اختر شیرانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے