سراب

سراب
ترے آبِ گُم کی تلاش پر
مری زندگی کی اساس ہے
مرے دل سے تیرے سراب تک
مرا راستہ تری آس ہے
وہ اِرم عدن کہیں کھو گئے
یہی چو بِ جاں مرے پاس ہے
یہی ریگِ دل مرا جسم ہے
یہی دشتِ درد لباس ہے
اسی دشتِ درد میں دور تک
تری آس ہے، مری پیاس ہے
شہزاد نیّرؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے