سُرور و رقص و مستی ، میں نہیں ہوں

سُرور و رقص و مستی ، میں نہیں ہوں
مکمل گھر گھرہستی ، میں نہیں ہوں
وہی صدیوں پرانی ، عام عورت
انوکھا رازِ ہستی ، میں نہیں ہوں
ہے دل کی آرزو صحرا نوردی
نگر، قصبہ یا بستی ، میں نہیں ہوں
کہیں اک کھیت میرا منتظر ہے
سو دریا پر برستی میں نہیں ہوں
مرے ان قہقہوں کا راز سمجھو
بسا اوقات ہنستی ، میں نہیں ہوں
صائمہ آفتاب

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے