سرگشتہ بہت رہنا ، کوئی بات نہ کرنا!

سرگشتہ بہت رہنا ، کوئی بات نہ کرنا!
اس طرح کے پیدا کبھی حالات نہ کرنا
جن آنکھوں میں روشن ہیں ترے نام کے جگنو
اب ان کے مقدر میں کبھی رات نہ کرنا
پلکوں کے کناروں پہ کبھی اوس نہ اُترے
مجروح کبھی پیار کے جذبات نہ کرنا
تم پیار گھروندوں کی نزاکت کو سمجھنا
جو ان پہ گراں گزرے وہ برسات نہ کرنا
آ جانا مرے پیار کی بانہوں میں سمٹ کر
تم ہجر کے صحرا میں بسر رات نہ کرنا

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے