سراب و خواب کے آزار سے نکل جاؤں

سراب و خواب کے آزار سے نکل جاؤں
تو کیا میں اپنے ہی گھر بار سے نکل جاؤں ؟
عجیب خواہشیں سینے سے لگ کے روتی ہیں
تو کیوں نہ میں ترے بازار سے نکل جاؤں
یہیں رہوں اسی وحشت سرا میں نوحہ کُناں
جو یوں نہیں ہے تو اس غار سے نکل جاؤں
تری صدا ہو تو در کی طرف بھی کیوں دیکھوں
پڑھوں وہ اسم کہ دیوار سے نکل جاؤں
مجھے مٹانے کا مجھ کو بھی اختیار نہیں
میں سر نہیں ہوں کہ دستار سے نکل جاؤں
کہیں یہ عشق نکمّا نہ کردے مجھ کو بھی
سو کیوں نہ فُرصتِ بے کار سے نکل جاؤں
شمشیر حیدر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے