Saqi Nazar Se Pinhaan

ساقی نظر سے پنہاں ، شیشے تہی تہی سے

باز آئے ہم تو ایسی بے کیف زندگی سے

کس شوق ، کس تمنا ، کس درجہ سادگی سے

ہم آپ کی شکایت کرتے ہیں آپ ہی سے

اے میرے ماہ کامل پھر آشکارا ہو جا

اُ کتا گئی طبیعت تاروں کی روشنی سے

نالہ کشو اُٹھا دو ، آہ و فغاں کی رسمیں

دہ دن زندگی ہے ، کاٹو ہنسی خوشی سے

دامن ہے ٹکڑے ٹکڑے ، ہونٹوں پہ ہے تبسم

اک درس لے رہا ہوں پھولوں کی زندگی سے

آگے خدا ہی جانے انجامِ عشق کیا ہو

جب اے شکیل اپنا یہ حال ہے ابھی سے

شکیلؔ بدایونی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے