سپردگی کا قرینہ سبھی کو آتا ہے

سپردگی کا قرینہ سبھی کو آتا ہے
سو ابتدا میں پسینہ سبھی کو آتا ہے
شعورِ مے نہ سہی کثرتِ ہوس ہی سہی
شراب لاؤ کہ پینا سبھی کو آتا ہے
یہ اپنے آپ سے بچھڑے ہوؤں کی بستی ہے
یہاں تو ہجر میں جینا سبھی کو آتا ہے
کوئی بھی اب نہیں مرتا یہاں غمِ دِل سے
یہ زہر گھول کے پینا سبھی کو آتا ہے
سعید ایک تمہی ہو کہ سرکشیدہ ہو
غلام بن کے تو جینا سبھی کو آتا ہے
سعید خان 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے