سنترپنچ

سنترپنچ

میں لاہور کے ایک اسٹوڈیو میں ملازم ہوا۔ جس کا مالک میرا بمبئی کا دوست تھا۔ اس نے میرا استقبال کیا۔ میں اس کی گاڑی میں اسٹوڈیو پہنچا تھا ٗ بغل گیر ہونے کے بعد اس نے اپنی شرافت بھری مونچھوں کو جو غالباً کئی دنوں سے ناتراشیدہ تھیں۔ تھرکاکر کہا:

’’کیوں خواجہ ! چھوڑ دی۔ ‘‘

میں نے جواب دیا۔

’’چھوڑنی پڑی۔ ‘‘

اسٹوڈیو کا مالک جو اچھا فلم ڈائریکٹر بھی ہے ( میں اسے سہولت کی خاطر گیلانی کہوں گا) مجھے اپنے خاص کمرے میں لے گیا۔ ادھر ادھر کی بے شمار باتیں کرنے کے بعد اس نے چائے منگوائی جو نہایت ذلیل تھی ٗ زبردستی پلائی۔ کئی سگریٹ اس دوران خود پھونکے اور مجھ سے پھنکوائے۔ مجھے ایک ضروری کام سے جانا تھا۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا۔

’’یار ٗ چھوڑو اب چائے کی بکواس کو۔ مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے آج اتنے برسوں کے بعد کیسے یاد کر لیا‘‘

’’بس ایک دن اچانک یاد آگئے۔ بُلالیا۔ بتاؤ اب صحت کیسی ہے۔ ‘‘

’’تمہاری دعا سے ٹھیک ہے۔ ‘‘

میرے لہجے میں دوستانہ طنز تھا۔ وہ ہنسا۔

’’واہ ٗ میرے مولوی صاحب۔ میرا خیال ہے کہ جب سے تم خشک خشک ہوئے ہو۔ تمہاری ہر وقت شگفتہ رہنے والی طبیعت ٹھہرے پانی کی طرح ٹھہر گئی ہے۔ ‘‘

’’ہو گا ایسا ہی۔ ‘‘

’’ہو گا کیا۔ ہے ہی ایسا معاملہ۔ لیکن خدا نہ کرے ٗ ایسی ذہانت جس کے سب معترف ہیں۔ اس کا بھی یہی حشر ہو۔ کیا تم اب بھی فلم کہانی کا ڈھانچہ تیار کر سکتے ہو۔ فرسٹ کلاس کہانی۔ ‘‘

میں نے اس سے کہا:

’’فرسٹ ٗ سیکنڈٗ انٹر اور تھرڈ میں نہیں جانتا۔ البتہ کہانی ضرور ہو گی۔ تم سوچتے ہو فرسٹ کی کہانی وہ اسکرین پر آتے ہی تھرڈ نہ بن جائے۔ یا تھرڈ جس کو تم نے ڈبوں میں بند کر کے گودام میں رکھ چھوڑا تھا۔ وہ گولڈن جوبلی فلم ثابت ہو۔ کیا درست نہیں۔ خیر اِن باتوں کو چھوڑو تم یہ بتاؤ کہ چاہتے کیا ہو۔ ‘‘

اس نے مجھے ایک سگریٹ سلگا کر دیا اور سنجیدگی سے کہا:

’’دیکھو منٹو۔ میں ایک کہانی چاہتا ہوں۔ بڑا دلچسپ رومان ہو اور تم مجھے اس کا مفصل اسکیچ ایک ہفتے کے اندر اندر دے دو۔ کیونکہ میں فلم ڈسٹری بیوٹر سے کنٹریکٹ کر چکا ہوں تم بتاؤ کتنی دیر میں لکھ لو گے۔ ‘‘

’’فراغت سے ایک مہینے کے بعد۔ ‘‘

سردیوں کا موسم تھا اس نے اپنے ہاتھ ایک دوسرے کے ساتھ بڑے زور کے ساتھ ملے۔ اس کے اس عمل سے دو چیزیں ظاہر ہوتی تھیں اول یہ کہ اس کے ہاتھ گرم ہو گئے ہیں۔ دوم یہ کہ اس کے سر کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے کہ اس کو کہانی وقت پر مل جائے گی اور وہ جو کہ میری طرح تیزی سے کام کرنے والا ہے ٗ اسے وقت مقررہ کے اندر اندر ڈائریکٹ کر کے اس کے پرنٹ ڈسٹری بیوٹر کے حوالے کر دے گا اور کنٹریکٹ کی رو سے جو بقایا رقم اس کے نام نکلتی تھی ٗ اسی وقت میز پر دھروالے گا۔ اس نے چند لمحات غور کیا۔

’’کل ہی کام شروع کر دے گا۔ ‘‘

میں نے جواب دیا:

’’کام تو میں شروع کر دوں۔ لیکن یہاں میرے لیے کوئی علیحدہ کمرہ ہونا چاہیے۔ ‘‘

’’ہو جائے گا۔ ‘‘

’’اور ایک اسسٹنٹ۔ ‘‘

’’مل جائے گا۔ تو کل سے آنا شروع کر دو گے۔ ‘‘

میں نے اس سے کہا:

’’دیکھو گیلانی۔ میرے گھر سے اور تمہارے اسٹوڈیو تک کا فاصلہ کافی ہے۔ تانگے میں آؤں تو قریب قریب ڈیڑھ گھنٹہ۔ بس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ‘‘

اس نے پوچھا

’’کیوں۔ ‘‘

’’یعنی اس کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بس اسٹینڈ پر کھڑے رہو۔ خدا خدا کر کے پانچ نمبر کی بس آگئی۔ مسافروں سے بھری ہوئی اور وہ بغیر ٹھہرے چل دی اور تم خود کو دنیا کا کم ترین انسان محسوس کرتے ہو۔ جی میں آتا ہے کہ خودکشی کر لو۔ یا پھر دنیا والوں کی بے رخی سے نجات حاصل کرنے کے لیے سنیاس دھارلوں۔ ‘‘

گیلانی نے اپنی شرارت بھری مونچھیں تھرکائیں۔

’’میں شرط بدنے کیلیے تیار ہوں کہ تم کبھی دنیا تیاگ نہیں سکتے جس دنیا میں ہر قسم کی شراب ملتی ہے۔ اور خوبصورت عورتیں بھی۔ ‘‘

میں نے چڑ کر کہا:

’’عورتیں جائیں جہنم میں۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں بمبئی کے ہر اسٹوڈیو میں ٗ جہاں میں نے کام کیا ٗ ان سے دور ہی رہا۔ ‘‘

’’تم تو خیر اپنے وقت کے ڈون جو آن Donjyan ہو۔ ‘‘

’’مذاق اُڑاتے ہو تم خواجہ میرا۔ ‘‘

میں نے سنجیدگی کے ساتھ اس سے کہا:

’’نہیں گیلانی ع یہ رُتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔ یایوں کہہ لو ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ گیلانی مسکرایا۔

’’خدائے بخشندہ تو بڑے عرصے سے تمہیں مرحوم و مغفور کر چکا ہے۔ تم بخشی ہوئی روح ہو۔ ‘‘

میں نے کہا:

’’اس سے کیا ہوتا ہے۔ میں اپنے گناہوں کی سزا بھگتنا چاہتا ہوں۔ ‘‘

’’فلسفہ مت بگھارو یار۔ یہ بتاؤ کیا ابھی تک تمہارے پاس وہ اردو ٹائپ رائٹر موجود ہے۔ ‘‘

’’اچھا تو یہ بتاؤ کہ وہ ایکٹریس جس سے تم نے کلکتہ میں شادی کی تھی ٗ ابھی تک تمہارے پاس موجود ہے۔ ‘‘

گیلانی نے فخریہ انداز میں جواب دیا:

’’موجود کیوں نہیں ہو گی۔ گویا تمہاری نظر میں ایکٹریس اور ٹائپ رائٹر میں کوئی فرق نہیں۔ ‘‘

میں نے اس سے کہا:

’’کیا فرق ہے۔ ایک فلم پر ٹائپ کرتی ہے۔ دوسری کاغذ پر۔ دونوں کسی وقت بھی بگڑ سکتی ہیں۔ ‘‘

گیلانی میری ان باتوں سے تنگ آگیا تھا۔ آخر میں نے اس کو دلاسا دیا۔

’’یار ٗ یہ سب مذاق تھا۔ تو میں کل آجاؤں۔ میرا مطلب ہے تم گاڑی بھیج دو گے؟‘‘

گیلانی صوفے پر سے اٹھا۔ اس کے ساتھ میں بھی۔ اس نے کہا:

’’ہاں۔ ہاں بھئی۔ کب چاہیے تمہیں گاڑی۔ ‘‘

’’کوئی وقت بھی مقرر کر لو۔ ساڑھے نو بجے صبح۔ ‘‘

’’ٹھیک ہے۔ ‘‘

’’تم کاغذ وغیرہ آج ہی منگوا لینا۔ تاکہ میں اسٹوڈیو پہنچتے ہی کام شروع کر دُوں۔ اور تم سے الٹا نہ سنوں کہ دیکھو تم نے مجھے لیٹ ڈاؤن دیا۔ میرا اتنے ہزار روپے کا نقصان ہو گیا ہے۔ ‘‘

گیلانی نے بڑے پیار سے کہا:

’’کیا بکتے ہو یار۔ میں تمہاری طبیعت سے کیا واقف نہیں۔ کبھی کبھی تم ڈبکی لگا جایا کرتے ہو۔ ‘‘

میں نے اُس کو یقین دلایا:

’’نہیں ایسا نہیں ہو گا۔ تم مطمئن رہو۔ ہاں میرا ٹائپ رائٹر یہاں محفوظ تو رہے گا؟‘‘

گیلانی کی عادت ہے کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر چِڑ جاتا ہے۔

’’محفوظ نہیں رہے گا تو کیا غنڈے اغواہ کرنے آ جائیں گے۔ اپنے کسی عاشق کے ساتھ تمہاری مشین بھاگ نکلے گی۔ ‘‘

میں بہت ہنسا۔ ہنستے ہنساتے ہم دونوں نے اسٹوڈیو کا چکر لگایا۔ اس کے بعد اس نے مجھے الوداع کہی اور میں اسی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گیا۔ جہاں پہنچتے ہی میں نے ٹائپ رائٹر کی جھاڑ پونچھ کی۔ اس لیے کہ ایک مدت سے میں نے اسے استعمال نہیں کیا تھا کیونکہ فلمی کہانی لکھنے کا اس دوران میں کوئی موقع ہی میسر نہ آیا۔ بِگڑا ہوا مکینک یا مستری آرٹسٹ بن جاتا ہے ٗ یہ میرا اپنا ذاتی اختراع کردہ محاورہ ہے۔ گیلانی شروع شروع میں مکینک تھا۔ بگڑ کر وہ آرٹسٹ بن گیا ٗ پر وہ محنتی تھا۔ جب وہ مستری تھا تو اسے زیادہ سہولتیں میسر نہیں تھیں لیکن جب کیمرہ قلی سے ترقی کرتا کرتا کیمرہ مین بن گیا تو اس نے کیمرے کے ہر پیچ کے متعلق اپنی خداداد ذہانت اور جستجو طلب طبیعت کی بدولت یہ دریافت کر لیا کہ ان کا لوہے کے اس چوکھٹے میں اپنی اپنی جگہ کیا مصرف ہے۔ کیمرے کو وہ الٹا کرتا۔ کبھی سیدھا۔ کبھی اس کا گیٹ کھول کر بیٹھ جاتا اور گھنٹوں اس سے اپنے مختلف سائز کے پیچ پُرزوں کے ذریعے بوس و کنار میں مشغول رہتا۔ فرصت کے اوقات۔ یعنی جب شوٹنگ نہیں ہوتی تھی۔ وہ اپنی سائیکل پر شہر پہنچتا اور سارا دن کباڑیوں کی دکانوں پر صرف کرتا۔ اس کو دنیا کے تمام کباڑیوں سے محبت ہے ٗ اور ان کے کباڑ خانوں کو وہ بڑی مقدس جگہیں تصوّر کرتا تھا۔ وہ ان دُکانوں میں بیٹھ کر منصوبہ تیار کرتا رہتا کہ سلائی مشین کا ہینڈل جو بیکار پڑا ہے اگر لوہے کے فلائی ٹکڑے کے ساتھ ویلڈ کر دیا جائے اور اس کے فلاں کے اندر چھوٹے پنکھے جو نکڑوالی دکان میں موجود ہیں ٗ لگا دئیے جائیں تو فرسٹ کلاس دھونکنی بن سکتی ہے۔ خدا معلوم وہ کیا کیا سوچتا تھا۔ ان دنوں در اصل ذہنی ورزش کر رہا تھا۔ یہ وہ تیاری تھی جو وہ اپنے منصوبوں کی تکمیل کیلیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ اس نے ایڈیٹنگ بھی اسی طرح سیکھی۔ آس پاس کی ہر ننھی سے ننھی شے کا مطالعہ کیا ٗ اور آخر ایک دن اس نے اسٹوڈیو کی ایک فلم کی ایسی عمدہ ایڈیٹنگ کی کہ لوگ دنگ رہ گئے۔ سیٹھ نے سوچا۔ کہ اچھے کیمرہ مین تو مل جائیں گے مگر ایسا با کمال ایڈیٹر جو سیلو لائیڈ کے چھوٹے بڑے فیتے کے ٹکڑوں کو اس چابک دستی سے جوڑتا ہے کہ پھر اس میں مزید کتربیونت ہو ہی نہیں سکتی۔ چنانچہ ایڈیٹنگ ڈیپارٹ منٹ کاہیڈبنا دیا۔ تنخواہ اس کی وہی رہی جو بحیثیت کیمرہ مین تھی۔ وہ اپنا کام بڑی محنت اور تندہی سے کرتا رہا ٗ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ لیبارٹری سے بھی دلچسپی لیتا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں اُس نے اس کے کل پرزوں میں چند اصلاحات اور ترکیبیں پیش کیں جو بڑی ردّ و کد کے بعد قبول کر لی گئیں۔ نتیجہ دیکھا گیا تو بڑا حوصلہ افزا تھا۔ سیٹھ نے ایک دن سوچا

’’کیوں نہ گیلانی کو ایک فلم ڈائریکٹ کرنے کا موقع دیا جائے‘‘

جب اس سے پوچھا:

’’تم کوئی فلم ڈائریکٹ کر لو گے۔ ‘‘

تو اس نے بڑی خود اعتمادی سے جواب دیا:

’’ہاں سیٹھ۔ پر اس میں کوئی دخل نہ دے!‘‘

کہانی آدھی گیلانی نے خود بنائی۔ آدھی اِدھر اُدھر کے منشیوں سے لکھوائی اور اللہ کا نام لے کر شوٹنگ شروع کر دی۔ یہ فلم ختم ہوا اور نمائش کیلیے مقامی سینما ہاؤس میں پیش کیا گیا تو اس نے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ اس کے بعد اس نے لاہور میں دو فلم بنائے۔ یہ بھی سلور جوبلی ہٹ ثابت ہوئے۔ ایک کلکتہ جا کر پھر بنایا۔ وہ بھی کامیاب تھا۔ یہاں وہ بمبئی پہنچا۔ کیونکہ وہاں کے فلمسازوں نے بڑی تکڑی تکڑی آفریں بھیجی تھیں۔ چنانچہ ایک جگہ اس نے آفر قبول کر کے کنٹریکٹ پر دستخط کر دئیے اور کہانی

’’چن وے‘‘

کا منظر نامہ خود لکھا۔ فلم بن گیا۔ اور اتنا بڑا باکس آفس ثابت نہ ہوا۔ شاید اس لیے کہ بٹوارے کے باعث دوسرے شہروں کے مانند بمبئی میں بھی فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے جس طرح دوسرے مسلمان ہجرت کررہے تھے اس طرح گیلانی بھی بمبئی چھوڑ کر کراچی چلا گیا۔ یہاں سے وہ لاہور پہنچا اور ایک اسٹوڈیو کی داغ بیل رکھی۔ ساؤنڈ ریکارڈ سٹ سے لے کر کیلیں ٹھوکنے والے تک کو اس کی ذاتی نگرانی میں کام کرنا پڑتا تھا۔ قصّہ مختصر کہ اسٹوڈیو تیار ہو گیا۔ لاہور کے مسلمان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے۔ جب یہ اسٹوڈیو بنا تو ان کی جان میں جان آئی۔ چنانچہ یہاں شوٹنگ شروع ہو گئی۔ اس کے بعد یہ چل نکلا۔ گیلانی اس دوران میں اسٹیج اور اِدھر اُدھر کے متعلقہ سامان کو درست اور مرمت کرانے میں مشغول رہا اس کا دست راست لاہور ہی کا ایک نوجوان سراج دین تھا۔ جو قریب قریب آٹھ برس سے اس کے ساتھ تھا۔ نے کہا ٹائپ رائٹر کی دال لے کر کھا لو۔ اس کے بعد گیلانی نے خود میرے ٹائپ رائٹر کا معائنہ کیا اور فیصلہ صادر کر دیا کہ مشین میں کوئی نقص نہیں۔ مگر سراج اپنے تجربے کے بل بوتے پر مصر تھا۔

’’نہیں حضور۔ یہ اب مرمت طلب ہو چکی ہے۔ بڑے اور چھوٹے رولر سب نئے لگوانے پڑیں گے۔ اوور ہالنگ ہو گی۔ اس کا کتا بھی ناقص ہو چکا ہے ٗ وہ بھی پڑے گا۔ ‘‘

’’تمہاری ٹانگوں پر۔ ‘‘

’’آپ میرا مذاق نہ اُڑائیے۔ اچھا۔ خیر آپ ہی صحیح کہتے ہیں‘‘

یہ کہہ کر وہ اپنے گنجے سر پر ٹوپی درست کرتا ہوا چلا گیا۔ گیلانی نے اپنا خاص ٹول بکس منگوایا اور مشین کے سب پرزے الگ الگ کر کے رکھ دیے کوئی پرزہ پتھر پر گھسایا۔ کوئی ریگمال پر۔ کسی کے سریش لگائی۔ کسی کو تیل۔ اور ان کو دوبارہ فٹ کر کے فتح مندانہ انداز میں میری طرف دیکھا اور کہا:

’’کیوں صاحب ! ٹھیک ہو گئی یا نہیں۔ ‘‘

میں نے ایسے ہی کہہ دیا

’’ہاں ٗ اب ٹھیک ہے۔ ‘‘

گیلانی نے اپنے پاس کھڑے اسسٹنٹ کو بلایا:

’’جاؤ ٗ اس اُلو کے پٹھے ایکسپرٹ سراج کو بلا کر لاؤ۔ ‘‘

چند منٹ میں سراج حاضر ہو گیا۔ اس نے مشین چلائی تو دس پندرہ بار ٹپ ٹپ کرنے کے بعد ہی خاموش ہو گئی سراج نے گیلانی سے کچھ نہ کہا۔ تھوڑے وقفے کے بعد گیلانی بڑے تحکمانہ لہجے میں اس سے مخاطب ہوا

’’اچھا تم اسے بناؤ۔ دیکھیں تم کیا تیر مارتے ہو۔ ‘‘

مجھے اپنی پندرہ سالہ عزیز مشین کی اس درگت پر ترس آرہا تھا۔ مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔ جب اس کے انجر پنجر ڈھیلے ہوئے میری آنکھوں کے سامنے پڑے تھے۔ دوسرے دن سراج نے اپنا ٹول بکس ریکارڈنگ میں سے منگوایا اور میری مشین پر اپنی ماہرانہ سرجری شروع کر دی۔ ضروری پرزے نکال کر اس نے علیحدہ رکھ لیے اور باقی حصّے پٹرول میں ڈال دیے اب ان کی چتا جلانے کیلیے صرف ماچس کی ایک تیلی ہی کافی تھی۔ میں خاموش رہا۔ یہ سب کچھ دیکھتا رہا۔ کتے کے جبڑوں کو ایک پلاس کے ساتھ زور سے پکڑا اور میری طرف کرتے ہوئے بولا:

’’لو دیکھ لو۔ میں نہ کہتا تھا۔ کتا کام نہیں کر رہا۔ اس کا تو سنترپنچ ہی خراب ہے۔ ‘‘

’’سنتر پنچ۔ ‘‘

’’ہاں۔ ‘‘

اور سراج ایک بار پھر اس کا سنتر پنچ ٹھیک کرنے لگا۔

سعادت حسن منٹو

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے