سمے کی کوکھ سے حیرت کا رنگ اترتا ہے

سمے کی کوکھ سے حیرت کا رنگ اترتا ہے
ہوا نگلتے ہوئے جب چراغ جلتا ہے

بھٹکتی صبح کی خوشبو طواف کرتی ہے
منڈیرِ شب سے ندامت کا پھول جھڑتا ہے

سوال کرتے لرزتا ہے دائرہ ء سکوت
صدا اکستی ہے لب پر سفر ادھڑتا ہے

بدن کٹہرے میں عجلت سے جینے والوں کا
اذیتوں کی لپک سہہ کے دم نکلتا ہے

گلوئے خشک , چھلے ہونٹ , پانیوں کی کسک
بوقتِ شام کوئی دشت سے گزرتا ہے

بچھڑنے والے , بتا , وصل کی تمنا میں
پرائے ہجر کا تُو ذائقہ سمجھتا ہے

ادھورے عکس کی حدت کے وہم سے ارشاد
حقیقتوں سے پرے آئینہ بکھرتا ہے

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے