سلامتی کی دعا دے کے با خدا میں نے

سلامتی کی دعا دے کے با خدا میں نے
تمھارے نام کا کاجل لگا لیا میں نے

نہ جانے کس لیے تم مجھ سے آج خائف ہو
ذرا بتاو تو کیا کر دی ہے خطا میں نے

بنا بتائے ہی ہر بات جان لیتے ہو
اگر چہ تم سے کبھی کچھ نہیں کہا میں نے

قدم ملا کے تمھارے قدم سے چلتی رہی
مگر کیا نہ کبھی شکوہ اور گلہ میں نے

بھگت رہی ہوں سزا تم سے دل لگانے کی
خطا ہو ئ جو تمھیں اپنا کہہ دیا میں نے

یہ رنج و غم یہ اداسی یہ ہجر کا موسم
وفائیں کر کے یہ پایا ہے اب صلہ میں نے

مرے لیے بھی جگہ دل میں تم بنا لیتے
ہزار بار کی یہ تم سے التجا میں نے

لگاو جتنے بھی الزام بس یہی سچ ہے
نہ کی کسی سے بھی اے بے وفا جفا میں نے

سکون شازیہ ان کو نہیں کسی صورت
تمام زخموں کو دل میں چھپا لیا میں نے

شازیہ طارق

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے