سلام لاہور

سلام لاہور
ایک
بھرتری ہری کہہ گئے۔۔۔ کالو نہ یا تا و یمئیویاتا!
وقت نہیں گزرتا، ہم گزر جاتے ہیں۔
بس ایک نغمہ ’بس ایک المیہ‘ بس ایک جستجو۔
سر سے ڈھلکا ہوا آنچل اور سر ڈھکنے کی کوشش میں کھلتا ہوا سینہ۔
کوئی بھی سر ہو۔۔۔ کومل رِکھب یا کومل گندھار۔
عشقے دی گلی وچوں کوئی کوئی لنگھدا!
’’تو کیا اپنے کانوں کے جھُمکے اُتار کر پیش کردوں؟‘‘ اس نے کہا۔
’’نہیں نہیں، یہ جہاں ہیں، وہیں ٹھیک ہیں۔‘‘ میں یہ کہہ کر چلا آیا۔
وہ پکارتی رہی ۔ جیسے سُلگتے ہوئے چندن کی خوشبو۔
تقسیم کے بارہ برس بعد میں لاہور گیا تو چار مہینے لاہور اور کراچی کی خاک چھان کر وہیں جما رہا۔
واپس آتے وقت جب ریل گاڑی نے واہگہ کی سرحد پار کی تو ایسا احساس ہوا کہ اب میں ہندوستان کو پیچھے چھوڑ کر پاکستان میں داخل ہو رہا ہوں۔
یہ احساس اس لیے کہ چار مہینے کے عرصے میں ایک لمحے کے لیے مجھے یہ نہ لگا کہ میں کسی غیر ملک میں ہوں۔
دو
وہ کہانی، جو فرشتے کو انسان بنائے۔
ہر طرف ایک میگھ گمبھیر آواز۔
فلیش بیک زندہ باد۔
’’شاعری میری محبوبہ نہیں بلکہ بیوی ہے!‘‘ یہ کس نے کہا؟ گوپال متّل نے اور کس نے؟
کوئی زمانہ تھا کہ اسی لاہور میں ایک اخبار کے دفتر میں گوپال متّل کے منھ سے یہ بات سُن کر میرے تو ہنستے ہنستے پیٹ میں بل پڑ گئے تھے۔
کون جانے، کون سمجھے!
کبھی نقوش کارواں، کبھی رفتار کی لے، اور کبھی پکار کا احساس۔
بات ادھوری رہ گئی۔ لیکن کچھ نہ کچھ پاؤں جمے رہے۔
بہ انداز احترام۔۔۔
’’اک آپ ہنسے، اک نین ہنسے، ایک نین کے بیچ ہنسے کجرا!‘‘ آدمی کیسے رہے گھر میں اجنبی۔۔۔؟
جیسے جھیل کی تہہ تک اُتر گئے تارے!
حیرت کی قسم! حسرت کی قسم!
گھڑی کی وہی ٹِک ٹِک ٹِک۔ اسی کا نام بارشِ الہام۔ نیک بندے بھی قلم کا سفر کرتے ہی رہے۔ بقول پنڈت ہری چند اخترؔ۔
مسکرا دے، قصۂ اُمید کر دے مختصر
یا بڑھا لے چل ذرا سی بات کو افسانہ کر
سنہری مچھلی کی کہانی کس نے لکھی؟
میری کتاب ’’میں ہوں خانہ بدوش‘‘ کے دیباچہ میں ہمایوں کے مدیر اعلیٰ میاں بشیر احمد نے زبان و بیان کو ممتاز قرار دیتے ہوئے پیشین گوئی کر ڈالی کہ یہ کتاب ہمیشہ زندہ رہے گی۔
اب آپ کہیں کچھ یا نہ کہیں، ہم تو لنکا تک ہو آئے۔ واقعی میاں بشیر احمد صاحب نے مبالغہ آرائی کا نہیں بلکہ خلوص دلی کا ثبوت دیا۔
اب کیا کہیے، کیا کیا گزری! کچھ کھو بھی گئے، کچھ پا بھی گئے! اس کے باوجود لطیفہ بھی گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑنے لگتا ہے۔
جو جھوٹ بولے گا چوری بھی کرے گا۔
کسی کی نیند اُچٹ گئی اور بڑبڑاتے ہوئے کون جاگ کر اُٹھ بیٹھا۔ کچھ اُٹھ بھی گئے، کچھ آبھی گئے!
آنکھوں کے نیچے ہیں سائے۔ کچھ پی بھی گئے، چھلکا بھی گئے۔
میرا جی ریڈیو میں چلے گئے۔ لاہور سے دلی، گُل سے نظر ملتی ہی رہی، اب دل کی کلی کھلتی ہی رہی۔
فیض احمد فیض، ن م راشد اور چراغ حسن حسرت فوج میں ملازم ہوگئے۔ لیکن میرے ہاتھ میں ’’میں ہوں خانہ بدوش‘‘ کے بعد ’’گائے جا ہندوستان‘‘۔
حفیظ جالندھری کو حکومت ہند نے سانگ پبلسٹی کا ڈائرکٹر بنا دیا تو حفیظ نے پنڈت ہری چند اخترؔ کو اپنا نائب چُن لیا۔
محکمہ سونگ پبلسٹی نے جنگ کی حمایت میں جو گیت لکھوائے ان میں بہترین گیت حفیظ ہی کا تھا۔
یہ اڑوسن پڑوسن چاہے کچھ کہے
میں تو چھورے کو بھرتی کرا آئی ری
محفل تو کبھی سونی نہ رہی۔
کوئی قہقہہ لگاتا، کوئی زیر لب مسکراتا۔
اب آپ کہیں کچھ یا نہ کہیں! ہم زلف پریشاں بھول گئے۔ مجرم ہو کوئی سزا کوئی بھگتے۔ سب کے تو گریباں سی ڈالے، اپنا ہی گریباں بھول گئے۔ لیکن یہ کیسے بھول جائیں کہ چور چور موسیرے بھائی۔ اس کے باوجود سب سے نرالی اپنی بات۔ خیر جو جی میں آئے کہہ لو۔
ابھی اور کیا گزرے ہم پر! باادب با ملاحظہ! ہوشیار
آنسو میں سمندر تشریف لا رہا ہے!
بار الزام، بہ اندازِ احترام۔ مذاق سمجھو مذاق۔
عرب ہوٹل میں بڑے بڑے ادیب چائے کی پیالی منھ سے لگائے بیٹھے رہتے۔
یہ اچھی رہی! یہ سب ہمارا اپنا کیا دھرا ہے۔ جو سر پر پڑی ہے، اسے خود ہی بھگتو۔
اب عرب ہوٹل کی ادبی محفل انار کلی کی نگینہ بیکری میں آگئی۔
وہ آگیا، ہمارا موتیوں والا۔۔۔ سمجھ گئے نا! ارے بھئی جیسے جال میں پھنس کر مچھلی تڑپتی ہے۔ ہم نہ کہتے تھے اسے مذاق ہی سمجھو۔
واہ بھئی واہ! مینھ جو پڑ رہا ہے موسلا دھار۔
اونچی چیخ کس کی زبان سے نکلی؟
پانچ منٹ، دس منٹ، آدھا گھنٹہ گزر گیا۔
ہزار داستان، بہ اندازِ احترام۔ ہماری آنکھیں بھر بھر آ رہی ہیں۔ لیکن ہم رونا نہیں چاہتے۔
ایک طوائف کے بار بار منع کرنے کے باوجود ایک دوریش نے ایک سانپ پال رکھا تھا۔
ایک روز سانپ نے اپنا تمام زہر درویش کے جسم میں اُتار دیا۔ لیکن درویش نے اپنے عقیدے کے مطابق سانپ کا سر کاٹ ڈالنے کی بجائے سانپ کو معاف کرتے ہوئے کہا۔ جاؤ، دوست! ہم چلے۔ خدا حافظ! تم آزادی سے زندگی بسر کرو۔
سانپ اور درویش کی کہانی منٹو نے سنائی تھی۔
’’کیا آپ کو سانپ سے اب بھی محبت ہے؟‘‘ طوائف نے پوچھا۔
درویش نے ہوش و حواس کھونے سے پہلے پوچھا۔ ’’کیوں نہیں؟ کیوں نہیں؟ اتنی سردی تو شاید قبر میں بھی نہ لگے گی۔‘‘
’’درویش نہیں، فراڈ! ‘‘ منٹو کھلکھلا کر ہنس پڑا۔
وہ دن اور آج کا دن۔ منٹو کی زبانی ایسی کہانی پھر کبھی نہ سنی۔
میرا انتر من مور کی طرح ناچ اُٹھتا ہے۔
نئی پرانی نسلوں کا ٹھہراؤ اور جوش بخوبی پیش کیا جا سکتا ہے۔
’’سانپ، درویش اور نٹنی۔۔۔‘‘ کہانی کے لیے لاجواب عنوان۔
اس کے باوجود میں تو یہی کہوں گا کہ ہم کیا ہیں اور کیا نہیں ہیں، اس کا فیصلہ آج نہیں کل ہوگا۔
تین
گفتگو کے دوران میں تو یہی سوچتا رہا کہ کیا واقعی الفاظ ہم پر جبر کرتے ہیں۔
بھلے ہی بہت سی باتیں ہماری سمجھ سے باہر ہوتی ہیں۔ لیکن خانہ بدوشوں کی طرح جگہ جگہ بھٹکتے ہوئے الفاظ ہمارے ہم سفر بن جاتے ہیں۔ سوال انصاف، بھائی بندی اور امن قائم کرنے کا۔
محبوبہ کو ناگن کس نے کہا؟ جادوگر، او جادوگر!
اس پر گرما گرم بحثیں ہوا کرتیں کہ خوشبو کا آنچل کیا کہہ گیا؟
کسی کسی محفل میں تلے ہوئے یا نمکین کاجو خوب کھائے جاتے۔ محبوبہ کے ہزار نام۔۔۔ کبھی گلبدن، کبھی دل آرام۔ کبھی کبھی لال ٹین میں تیل ختم ہو جاتا اور رات بھر یہی خوف جان لیوا محسوس ہوتا رہتا کہ کہیں روپے کی قیمت اور نہ گر جائے۔ کئی بار سب سے ضروری بات ہماری سمجھ سے پرے رہتی ۔ اس کے باوجود ہماری تان یہیں ٹوٹتی کہ اپنی بات ایک دوسرے سے بلا تکلف کہنا سکھاتی ہے۔ کہانی۔ او صنم، او ہم صنم، تیری قسم! سیڑھیوں میں ہلکے قدموں کی چاپ۔ بہت اچھی کہانی ہے آج کل ہمارے ہاتھ میں۔ جی شکریہ۔ کہانی نے جلوس میں راستہ بنایا۔
اوپر آسمان ، نیچے پاتال۔
ساقی کو آئینہ کس نے کہا؟ ہمت شاہ نے، اور کس نے۔ اپنا ہمت شاہ، جو چترکار بھی ہے اور مورتی کار بھی۔
سر جھکائے گزر گیا ہمدم۔
آئیے آئیے ۔ غریب خانہ میں تشریف لائیے۔
اس دور کی باتیں، کچھ لوگ بتاتے ہیں
وہ دورِ غلامی تھا، یہ کوئی نہیں کہتا
جانے کس کس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہیے کیسے آنا ہوا؟
چار
کچھ نہ کچھ بات تو ہوگی۔ چند لمحے خاموشی رہی۔
جھوٹ کی کئی قسمیں ہیں۔ آج پھر بحث زوروں پر تھی۔ شاباش۔
مور پھر ناچ اُٹھا۔ قابو کچھ اپنے آپ پر لانے لگے تھے ہم۔
جذبے کی وہ دھڑکن ۔ انار کلی کو کبھی غصہ نہیں آتا۔
گھڑی کی وہی ٹِک ٹِک ٹِک۔ اللہ میاں خوش۔
کہانی کو شعلہ بن کر بھڑکنے دو۔ دنیا بھر کی زندہ دلی۔
لاہور کی ہر بات یاد ہے اب تک۔ لاہور کا ہم پر بڑا احسان ہے۔
جانے کہاں کہاں فرمائشی قہقہے پڑتے رہے۔ لاہور کی پسند کچھ لاہور ہی بہتر سمجھتا ہے۔
دوستوں نے اطمینان کا سانس لیا۔
کیسے کہیں کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہے؟ کون کہہ سکتا ہے، کہ پیچھے لاہور،آگے آگرہ۔
تو خود ہی سوچو۔ کون کس سے کھنچا کھنچا سا رہا واہ رے واہ ہم۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔
آپ کی ہمدردی کا شکریہ۔ گھر، نہ سہی، باہر سہی۔
کچھ بیتی ہنسنے رونے میں کچھ آنکھ چرانے میں گزری۔
مزاج تو اچھے ہیں، بڑے میاں؟
یہ پھول اور خوشبو۔ شاید سبب کچھ اور ہے۔
اجی چھوڑیے بھی۔ خو تم آدمی نہیں فرشتہ ہے!
پانچ
کبھی اُلٹے قدموں بھی چلتی ہے، کہانی۔ شاباش شاباش! کبھی لاچاری، کبھی مجبوری۔ کبھی پاس کی دوری۔
کبھی آوارہ مجنوں، کبھی آوارہ نغمہ۔ آنکھوں سے مسکرانے والے۔ آواز گلے میں اٹک اٹک گئی۔
قہقہے ہم پر لگاتا ہے۔ ابھی موسم نہیں بدلا۔ ہم اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔
آواز کا پُل کہاں دیکھا؟
ہم مسلسل چل رہے ہیں۔ اپنا اپنا ٹھور ٹھکانہ۔ ابھی سرگم نہیں بدلا۔ آخر ہوا کیا؟ کچھ کہو تو۔ کہاں کہاں ہم گم سم رہے!
اس نے میرے کیا کیا نام دھرے۔
یا خدا یہ کیا مصیبت ہے؟ اس کے باوجود دن دونی، رات چوگنی ترقی کا انتظار۔
دھرتی کی خوشبوؤں میں کہانی کا جادو ہے ۔ جادوگر! او جادوگر!
سب نے قہقہہ لگایا۔ بد اچھا بدنام بُرا۔ واہ رے مست قلندر!
ناؤ کس گھاٹ پر آلگی؟ اب تو بدلیں گے آسمان کے دن۔
کیا لاہور کیا امرتسر۔ سب جگہ ایسا ہی حال ہے، سرکار! ماں کی لوری پیارے تھپکتی رہی۔
کبھی کبھی جنگل میں منگل۔
کہو یہ کس کی کارستانی ہے ،کس کا کیا دھرا ہے؟ سات سمندر، سات سُر اور ہفتے کے سات دن۔
لوٹ آؤ دوبارہ لوٹ آؤ۔ منٹو کو کیسے آواز دوں؟
چھ
کون کس کے نزدیک پہنچا؟ شملہ پہاڑی کے اور کس کے؟
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں کتنی افواہیں جناب۔
شملہ پہاڑی سے بہت قریب سے لاہور کا ریڈیو سٹیشن۔ گفتگو کا سلسلہ۔
ہماری سب دعائیں بے اثر تو نہیں۔ ہمارا۔۔۔
ہمارا یہ حال۔ کمال کا بیٹا جمال۔ لیکن ہم ہنستے زیادہ ہیں۔
جانے کس کس نے بے تُکا قہقہہ لگایا۔
چائے کی پیالی میں طوفان دیکھا کہاں کہاں؟
تصویر در تصویر پر عالمانہ گفتگو ہوتی رہی۔
بس اب غصہ تھوک بھی ڈالو۔
ہم اپنی پلکیں بچھاویں گے مہمان کے قدموں میں۔
اس شہر کو قریب سے پہچانتے ہیں ہم۔
ہماری حیثیت خالی لفافے کی سی تو نہیں ہے؟
کوئی نہ کوئی رونے کے انداز میں مسکرائی تو میں نے چپ کا روزہ رکھ لیا۔
کسی سے یہ مت کہو کہ تمھارا دماغ خراب ہو گیا۔
سات
نہ جانے کتنے موڑ آتے ہیں چھوٹی سی کہانی میں۔ یہی کہو! یہی کہو۔
ایک ناٹک کے ہم سب ابھینیتا ہیں، بڑے میاں! ہم نے کس کس کے ناز اُٹھائے!
شاخ پر پھول کھلا ہو جیسے۔ سوچتے ہیں ہم کہ سسکیوں پر کیسے قابو پائیں۔
جس کو آنا ہے یہاں بن کے سوالی آئے۔
حافظا گر وصل خواہی، صلح کن با خاص و عام
با مسلماں اللہ اللہ، با برہمن رام رام!
شہر در شہر کہو بات اچھالی جائے۔
چلو آج آوارہ نغمہ ہی گائیں۔۔۔ راگ نٹ کلیان۔
الغوزے پر راگ جوگیا ۔ جھک جائے آسمان۔
اب کہو لاہور کا لمبا سفر کیسا رہا!
پرچھائیوں کے پیچھے جو بھی بھاگا، بڑے میاں!
وہ بھی سمجھو پرچھائیں بن کے جاگا، بڑے میاں!
شہر لاہور کی شان جہانگیری نہیں جاتی۔
ہیلو مقبرہ جہاں گیر! راوی کے اس پار، پل سے گزر کر، پیدل یا بس پر، اکیلے یا دوستوں کے ہمراہ، یہی ایک راستہ ہے۔ کچھ حقیقتیں بھی ہیں بعض داستانوں میں۔
انگھوٹھی میں جڑے ہوئے بیش قیمت نگینے کی قسم!
گھر میں اجنبی لگتا ہوں کیسے کہوں؟
شوق کی آگ نہ دھیمی پڑنے پائے۔
نور جہاں کے مقبرے پر یہی تو لکھا ہے۔
بر مزارِ ما غریباں نے چراغ نے گلے
نے پر پروانہ سوزد، نے صدائے بلبلے!
اسے کہتے ہیں انکسار، بڑے میاں!
محبتوں کا سلام، لاہور!
زندہ باد لاہور، زندہ باد بڑے میاں!
زندہ باد انار کلی! زندہ باد نیلا گنبد!
کراچی کی ایک خاص بات۔ غلام عباس کی ’’آنندی‘‘ کی سوغات۔
مکتبہ جدید لاہور کی پیشکش۔ قیمت چار روپے۔ بار اول، اپریل ۱۹۴۸ء۔ میرے لیے ایک کوہ نور۔
یہ میری خوش نصیبی ہے کہ یہ انمول کتاب میرے کمرے کی بک شیلف میں اب تک محفوظ ہے۔
اس پر موجود ہے غلام عباس کے ہاتھ سے لکھے ہوئے الفاظ، جن کی حیثیت سمراٹ اشوک کے کسی شِلا لیکھ سے کم نہیں۔۔۔
دیوندر ستیارتھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے