سکیسر کی بتیاں

سکیسر کی بتیاں

میرا نام بلقیس ہے۔ صرف بلقیس، آگے پیچھے کچھ نہیں۔ ہاں بچپن میں مَیں بلقیس زماں ہوا کرتی تھی جو نام میرے باپ کی دین تھا اور شادی تک میرے ساتھ لگا رہا۔ بعد میں مَیں بلقیس زماں سے بلقیس ستار بن گئی ۔ یہ نام میرے شوہر کی وجہ سے میرے ساتھ لگا جو تیس سال میرے ساتھ چمٹا رہا۔ ستار نمایاں رہااور بلقیس معدوم۔ پھر ستار بھی غائب ہو گیا ایسے جیسے زماں غائب ہوا تھا اور بلقیس کا نام ابھرتا چلا گیا۔ اب صرف بلقیس ہے۔ کسی لاحقہ کے بغیر، کسی سابقہ کے سوا۔ آزاد فضا میں سانس لیتا ہوا یہ نام بادِ بہاری میں لرزاں کمزور گلِ داؤدی کی طرح اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔بچپن میں جب بابا میری چپلوں اور مکوں سے پٹائی کیا کرتے تھے تو میری جان بچانے کے لیے ماں قریب نہ آتی۔ کیسے آتی، اسے مجھ سے زیادہ مار پڑتی۔بابا مار مار کے تھک جاتے تو کھٹے پسینے میں بھیگی لمبی چوڑی مونچھ کو اپنے پیلے رومال کے پلو سے صاف کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل جاتے۔ چولھے میں لکڑیاں پھونکتی ماں کنکھیوں سے اسے باہر جاتا دیکھتی۔ جب دروازے کا پٹ زور سے بند ہوتا تو وہ اُٹھ کر میرے پاس آتی اور میرے زخموں کو سہلا کر مجھے اپنی گود میں بٹھا لیتیں۔ حالانکہ میں اتنی بڑی ہو چکی تھی کہ ماں کی گود میں بیٹھنا معیوب نہیں تو عجیب ضرور محسوس ہوتا تھا۔ میرے بابا کا نام شیر زماں تھا۔ وہ تعلیم خاص کر لڑکیوں کی تعلیم کے سخت خلاف تھا۔ لیکن ماں مجھے پڑھانا چاہتی تھی اور مجھے چوری چھپے گھر کے ساتھ والی دوکان سے کاپی، قلم دوات، تختی اور کتاب لا کر گھر پڑھانا شروع کر دیا۔ وہ خود آٹھ جماعتیں پڑھی ہوئی تھی اور مجھے دس تک پڑھانے کا خواب دیکھ رہی تھی۔ جب کبھی بابا میرے ہاتھ میں قلم کتاب دیکھ لیتا تو میری شامت آ جاتی اور میری ٹھیک ٹھاک درگت بنتی۔
میری ایک خالہ سون کی وادی میں رہتی تھی جس کا شوہر یعنی میرا خالو سکیسر کی چھاؤنی میں افسر لگا ہوا تھا۔ ایک دفعہ سخت گرمیوں میں بابا بیمار ہوا تو خالو اور خالہ تیمارداری کے لیے آئے اور چند دن ہمارے پاس رہے۔ بابا ٹھیک نہ ہوا ، الٹا بیماری نے زور پکڑ لیا۔ڈاکٹروں کے مطابق ان کو ٹی بی تھی جس کے لیے پر فضا مقام پر ہی وہ ٹھیک ہوسکتے تھے۔ خالو کے کہنے پر ہم سب ان کے ساتھ سکیسر چلے گئے جہاں انہوں نے بابا کو سرکاری ہسپتال میں داخل کرا دیا۔جولائی اگست کو دو مہینے ہم نے سکیسر میں گزارے جہاں ان گرم مہینوں میں بھی موسم خوشگوار تھا۔ سکیسرمیں خالہ کا گھر انہ ایک کوارٹر میں رہائش پزیر تھا جس کے دو بڑے بڑے بلند چھتوں والے کمرے ہم دو خاندانوں کے لیے کافی تھے۔ میراخالہ زاد جس کو سارے تارا تارا کہتے تھے اس وقت دسویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ بابا ہسپتال میں داخل ہو گیا تھا ۔ خالہ نے تارے بھائی کو کہا کہ مجھے لکھنا پڑھنا سکھا دے۔
میری عمر اس وقت کوئی دس بارہ سال ہو گی۔ دو مہینوں میں مَیں نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا اور اخبار کی موٹی موٹی سرخیاں پڑھنے کے قابل ہو گئی۔ خالہ کے گھر میں شہتوت کے دو درخت ہوا کرتے تھے۔ ایک پر کالے اور دوسرے پر سفید توت لگتے۔ تارا اور میں ان درختوں کی چھاؤں میں پڑھا کرتے۔ مجھے کالے توت کا درخت پسند تھا اور اس کے نیچے دری بچھا کر بیٹھ جاتی۔ تاری آتا تو وہ دری گھسیٹ کرسفید توت والے درخت کے نیچے لے جاتا۔ اس کے مطابق کالے توت اس کے سفید لباس کو خراب کر دیتے ہیں۔ میں خاموشی سے درختوں کی چھاؤں تبدیل کرکے اس کے پاس بیٹھ کر پڑھنا شروع کر دیتی۔ تاری اور میںشام کو بابا کا کھانا ہسپتال دے کر واپس آ رہے ہوتے تو خالہ کے کوارٹر کے چھجوں پر لگے دو بلب دور سے ہی نظر آنا شروع ہو جاتے۔تاری اور میں ہسپتال میں کھانا دے کر جلد ہی باہر نکل آتے اور پھر سکیسر کی گلیاں ماپا کرتے۔ یہ علاقہ ارد گرد کے میدانی علاقوں سے بہت بلندی پر قائم ہے۔چاروں طرف گہرائیوں میں پھیلی ہوئی زمین گھاٹیوں کی شکل میں دکھائی دیتی۔ مشرق کی طرف نوشہرہ ،خوشاب، جوہر آباد اور دور سرگودھا کی روشنیاں تاریکی میں جھلملاتی ہوئی محسوس ہوتیں۔ مغرب میں کوسوں دور میانوالی اور مضافات ، شمال میں لاوہ، چکڑالہ، رکھی اور جنوب میں قائدآباد، واں بھچراں اور بندیال کے شہر ٹمٹماتے ہوئے دکھائی دیتے۔ میں اپنے آپ کو نیچے میدانی علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے بہت ارفع اور اعلیٰ محسوس کرتی۔ سکیسر کی ٹھنڈ میں میدانی گرمی کا احساس جاتا رہا تھا۔ تاری اور میں شام کو چادریں لپیٹ کے گھوما کرتے تھے ۔ نیچے جب ہم گھر میں تھے تو بڑے سے صحن میں پنکھے کے آگے بھی پسینے میں شرابور ہانپتے کانپتے راتیں گزرا کرتیں۔اگست کے مہینے میں ساون کی گھٹائیں اُٹھنا شروع ہوئیں تویہاں کا حسن اور بھی نکھر گیا۔ جانے کہاں سے سلیٹی، سفید، نیلے اور کالے کالے بادل بجلی کی سی تیزی سے اُمڈ آتے اور منٹوں میں چھما چھم بارش برسنا شروع ہو جاتی۔ پھر اچانک بارش یوں رکتی جیسے باتھ روم کا شاور کسی نے بند کر دیا ہو۔ اور پھر بادل بھی اپنا بوریا بستر لپیٹ کر دور بھاگ جاتے ۔ برسات میں یوں لگتا تھا کہ جیسے دسمبر کا مہینہ آگیا ہے۔ رات کو کمروں میں بند کمبل اوڑھ کر سوتے اور صبح کی دھوپ میں گیلے گیلے جسموں کو سینکا کرتے۔
میری پڑھائی جاری تھی۔ برسوں کے سبق چند دنوں میں یاد کرنے کی سعی میں مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ میں نے اچھا خاصا پڑھنا لکھنا لکھنا سیکھ لیا ہے۔ اب میں نے خالہ کے گھر پڑے پرانے ٹوٹ بوٹ اور جگنو نامی بچوں کے رسالے پڑھنا شروع کر دیے۔ اماں مجھے پڑھتا دیکھتی تو خوشی سے مسکرانا شروع کر دیتیں۔ جب میں اور تاری سفید توت کے درخت کے نیچے دنیا مافیہا سے بے نیاز پڑھائی میں مصروف ہوتے تو اماں اور خالہ تھوڑی دور برآمدے میں چارپائی پر بیٹھی خاندانی لوگوں کی برائیاں کرنے میں محو ہوتیں۔ پھر اچانک کبھی کبھار ان کی آوازیں پست ہوکر سرگوشیوں میں بدل جاتیں اور نظروں کے عدسے ہمیں گھورنا شروع کر دیتے۔ دونوں بہنوں کے ہونٹوں پر میلی سی مسکراہٹ بھی کھیلتی رہتی۔ خالو کے آنے کا وقت ہوتا تو خالہ پڑھائی ختم کرکے چٹائی لپیٹنے کا کہہ کہ باورچی خانے میں چلی جاتیں۔ میں ماں کے ساتھ بائیں جانب کے کمرے میں جا بیٹھتی جہاں ہمارا سامان پڑا رہتا تھا۔ ہمیں جو کمرہ دیا گیا تھا اس کے سامنے تھوڑا فاصلے پرریسٹ ہاؤس کی پرانی عمارت موجود تھی۔ اس کے بائیں جانب گہری وادی اور پھر دور میدانی آبادیاں اپنی موہوم سی موجودگی کا احساس دلوا رہی ہوتیں۔ توت کے دونوں درخت سبز کچور پتوں سے بھر چکے تھے۔ فرش کالے اور سفید توتوں سے بلیک اینڈ وائٹ فلم جیسا ماحول پیدا کر رہا ہوتا۔کھڑکی سے ٹھنڈی ہوائیں آ آکرہمارے سینے سے لگ کر جسموں کو گدگداتیں۔ مجھے پہلی دفعہ جسم میں گدگدی کا احساس ہوا لیکن وہ دن ہمارے وہاں قیام کا آخری دن تھا۔ بابا اب ٹھیک ہو گئے تھے لیکن بیماری نے ان کو دو مہینوں میں بوڑھا کر دیا تھا۔ سکیسر میں ہمارے قیام کے آخری دن زوروں کی بارش ہوئی تھی۔ کالے بادلوں سے گرتے ہوئے سفید موتیوں جیسے قطرے دھلے ہوئے پہاڑ کو دوبارہ نہلا رہے تھے۔ ہر طرف ساون کی ہریالی شاخوں، پتوں، ٹہنیوں اور پھلوں پھولوں کی شکل میں رقص کناں تھی۔ تاری نے آخری سبق برآمدے کی سرخ ٹائلوں پر دیا۔ جب ہم نکلنے لگے تو اس نے اندر سے ایک سکول بیگ لا کر مجھے دیا جس میں کتابیں، کاپیاں اور کہانیوں پر مشتملرسالے موجود تھے۔ بیگ کو دیکھ کر میں ڈر گئی کیونکہ بابا ٹھیک ہو چکے تھے اور بابا کے ہوتے ہوئے سکول بیگ کی موجودگی خطرے سے خالی نہیں تھی۔ لیکن جب بابا کو ہسپتال سے گھر لایا گیا تو وہ سویا سویا اور خاموش تھا۔ اسے ہم لوگوں یا اس خوبصورت موسم میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
جب سکیسر سے بس چلی تو ٹھنڈ کی وجہ سے ہمیں بس کی کھڑکیوں کے شیشے بند کرنے پڑے۔ لیکن جوں جوں بس پہاڑوں سے نیچے اترتی گئی موسم بدلتا گیا۔ آدھے گھنٹے میں ہی گرمی کا احساس ہونے لگا اور ہم نے کھڑکیوں کے شیشے کھول دیے۔ جب گھر پہنچے تو شام کی اذانیں ہو رہی تھیں۔گاؤں کی چھوٹی چھوٹی دیواروں سے جلتے ہوئے تنوروں کا دھواں اُٹھ رہا تھا۔ گرمی زوروں پر تھی۔ پورا گاؤں اپنے صحنوں میں چارپائیاں بچھائے شام کے گرم اور حبس بھرے لمحات گزارنے کی کوشش کر رہا تھا۔
پہاڑوں پر ہونے والی بارش میدانی علاقوں کی گرمی میں حبس کی اضافہ کر دیتی ہے۔ رات گئے گرمی اور حبس کی شدت میں کمی ہوئی تو مچھر وں نے حملہ کر دیا۔ رات اُٹھتے بیٹھتے کٹی۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ ہم اسی گاؤں کے باسی تھے اور اسی ماحول میں ساری زندگیاں گزاری تھیں۔ رات دو بجے بابا نلکے کے نیچے نہا رہے تھے اور میں نلکا چلا رہی تھی۔ نلکے کی ہتھی چلاتے ہوئے پورا جسم پسینے سے تر بتر ہو گیا۔ اچانک میرے نگاہیں دور شمال کے آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔ اماوس کی اندھی رات میں سکیسر کے پہاڑ پر روشنیاں جگنوؤں کی طرح جگمگا رہی تھیں۔سکیسر کی بتیوں کو دیکھتے ہی میرے جسم میں بجلی دوڑ گئی۔ نلکے کی ہتھی کے چلنے کی رفتار میں اچانک اضافہ ہوا تو بابا نے زور سے گالی دی۔ ماں مری ہولے گیر نلکا۔
بابا کے مرنے کے بعد میری شادی عبدالستار سے کر دی گئی۔ وہ عمر میں مجھ سے پندرہ برس بڑا تھا۔ گھر اتنا بڑا کہ چاردیواری کی دیواریں ہی نہ تھیں۔ ساری دھرتی اپنی معلوم ہوتی۔ اس گھر میں دن کے وقت عورت اور مرد میں کوئی فرق نہ ہوتا۔ زمینوں کی مشقت ہو یا جانوروں اور مویشیوں کے کام، سب ایک ساتھ کیا کرتے۔ صبح تڑکے کام میں جوتا جاتا اور رات گئے گردن سے پٹا اترتا۔ ستار کا سلوک میرے ساتھ عجیب انداز کا تھا۔ وہ مجھے کچھ نہ کہا کرتا۔ نہ زیادہ کام پر خوش ہو کر شاباش دیتا نہ کام نہ کرنے پر تو فٹم کرتا۔بس اُسے خود کام کرنے کا شوق تھا اور وہ جانوروں سے بڑھ کر کام کیا کرتا۔ میری باگیں میری ساس چاچی شیموں کے ہاتھوں میں تھیں۔ اماں اب گاؤں چھوڑ گئی تھی اور میانوالی میں اپنی بیوہ ماں کی خدمت کر رہی تھی۔میں کبھی کبھی اس کو ملنے جاتی لیکن جلد ہی اپنے گھر کے کام کاج کے باعث مجھے لوٹنا پڑتا۔ میرے معمول میں دو بھینسوں کی دیکھ بھال اور باورچی خانے کا کام تھا۔ اس کے علاوہ بھی چھوٹے موٹے کام کرنے پڑتے۔ جب رات کو تھک کر چارپائی پر گرتی تو سونے سے پہلے شمالی آسمان کو ایک نظر لازمی دیکھا کرتی جہاں سکیسر کی بتیاں جھلملاتی ہوئی خاموشی کے ساتھ مجھے اپنی طرف بلا رہی ہوتیں۔میں دیر تک ان بتیوں کو دیکھتی رہتی۔ کبھی خوابوں اور خیالوں میں یوں لگتا کہ میں توت کے درختوں تلے تاری کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہوں اور وہ مجھے سبق پڑھا رہا ہے۔ برآمدے میں خالہ اور اماں ہمیں دیکھ کر خوش ہو رہی ہیں۔خالہ کے گھر کی کیاری میں سے اٹھتی ہوئی موتیے اور چنبیلی کی خوشبو سکیسر کو جنتِ ارضی بنا رہی ہے۔ لیکن اس جنت میں قیام عارضی ثابت ہوتا ۔ بھینسوں کے باڑے سے اُٹھنے والی بدبو کے بھبوکے زیادہ دیر میرے خیالستان کو معطر نہ رہنے دیتے۔
تین دہائیاں بھینسوں ، زمینوں، صحن اور کچے کوٹھوں کے ساتھ ساتھ عبدالستار کی خدمت پوری ہوئی تو اچانک سب کچھ تیزی سے بدلنے لگا۔ ٹی بی نے ایک دفعہ پھر سر اُٹھا لیا تھا۔ اس مرتبہ اس کا نشانہ میرا خاوند تھا۔ وہ سال سے زیادہ بستر پہ پڑا تھوکتا رہا۔ اب کے کسی نےپہاڑوں پہ جانے کا مشورہ نہ دیا۔ بیماری لمبی ہوئی تو بھینسیں بھی بیچنا پڑیں۔ زمین خاندانی وارثوں میں تقسیم در تقسیم ہوتی ہوئی محدود ہو چکی تھی۔عبدالستار کے آنکھیں بند کرنے کی دیر تھی کہ اس کی بہنوں اور بھائیوں نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ تیسرے دن ہی مجھے گھر سے نکال دیا گیا اور میں ایک دفعہ پھر اپنی ماں کے پاس پہنچ گئی۔ وہ مجھے دیکھ کر خوش ہوئی کیونکہ وہ بھی ایک تنہا زندگی بسر کر رہی تھی۔ نانی کو فوت ہوئے تیسرا سال تھا۔
دو دم اکیلے اس بڑے سے مکان میں رہ رہے تھے۔ کبھی کبھی تو اس کشادگی سے ہمارا دم گھٹنے لگتا۔ دن کو محلے کے بچے ہمارے گھر میں آ جایا کرتے اور خوب چھپن چھوت ، پیٹو گرم ، اخروٹ، بنٹے اور چم چڑیا کوڑا کوڑا کھیلا کرتے۔ اماں جو اب شوگر اور بلڈ پریشر کی مریضہ بن چکی تھی آہستہ آہستہ خاموش ہوتی چلی گئی۔ میں نے محلے کے چھوٹے بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔ صبح سے شام کرنا پھر بھی مشکل بنا رہا ۔ زندگی مال گاڑی کی طرح دھیرے دھیرے آگے کی طرف بڑھنے لگی۔
سخت گرمیوں میں اماں فوت ہوئیں تو میں اس بھری دنیا میں تنہا رہ گئی۔ محلے کی ایک بے سہارا بوڑھی خاتون نے اب میرے ساتھ رہنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن اس خاموش طبع عورت کی موجودگی برائے نام تھی۔ماسی نوراں بہت کم بولا کرتی۔ زیادہ وقت وہ جائے نماز پر نماز تسبیح میں گزار دیتی۔ گرما زوروں پر تھا۔ دن گیارہ بجے گلی محلے خاموش ہو جاتے۔ دوکانیں بند ہو جاتیں۔ لوگ رات کی طرح آرام کرنے لگتے۔ بچے بھی اپنے گھروں میں واپس چلے جاتے۔ گرمی جتنی بھی شدید کیوں نہ ہوتی ماسی تین چار گھنٹے دن کو لازمی سویا کرتی۔ جولائی اگست کے مہینے میں رات حبس ہوا کرتا تھااور پنکھے کے باوجود نیند نہ آتی۔ایک رات ماسی نوراں اور میں دیر تک باتیں کرتی رہیں۔ نوراں اپنی زندگی کا نچوڑ پیش کر رہی تھی۔ اس کے مطابق عورت کی زندگی سہاگ اور بچوں تک ہی ہوتی ہے۔ ورنہ زمین کے نیچے اور اوپر ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں نے محلے دار عورتوں سے سن رکھا تھا کہ نوراں کا شوہر اس بیچاری پر بڑا ظلم کیا کرتا تھا۔ اس کا کام رنڈیوں کے پیچھے بھاگنا اور چرس کے سوٹے لگا کر گلیوں میں گھومتے ہوئے لوگوں کے گھروں میں جھانکنا ہوتا۔ نوراں کے دو بیٹے تھے۔ دونوں نشئی بن گئے اور گھر کی ہر چیز بیچ کر نشے میں پھونک دی۔ باپ کی طرح بیٹے بھی نوراں کو پیسوں کی طلب میں گالیاں دیا کرتے اور کبھی کبھی تو مارا بھی کرتے تھے۔ لیکن مجال ہے کہ نوراں نے کبھی کسی کے سامنے ان تین مَردوں کے خلاف کبھی زبان بھی کھولی ہو۔ آج بھی وہ عورت کے لیے مَردوں کا حصار ضروری قرار دے رہی تھی۔ جانے کیوں مجھے نوراں کی منافقت اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ میں بلقیس زماں سے بلقیس ستار بن گئی لیکن زندگی کا جو مزہ اکیلی بلقیس میں تھا وہ لمبے ناموں والی بلقیس میں کہاں۔
گرمی اور حبس کے باوجود نوراں سو گئی۔ میں چھت پر آ گئی کہ شاید ہوا کا کوئی جھونکا تپتے ہوئے جسم میں ٹھنڈک کا احساس پیدا کر جائے۔ چھت پر چاروں طرف سناٹا تھا۔ اندھیرے، خاموشی اور خوف کی ملی جلی بے کیف فضا میں میری نظریں مشرق کی طرف اُٹھ گئیں۔ دور پہاڑوں کی چوٹیوں پر سکیسر کی بتیاں جھلملا رہی تھیں۔ سکیسر کے باسی کمروں میں کمبل اوڑھے مطالعہ میں مصروف تھے یا پھر سکیسر کی خاموش گلیوں میں چپکے چپکے چہل قدمی میں مصروف تھے۔ خالہ کے کوارٹر کے چھجوں پر لگے دو بلب سکیسر کی روشنیوں میں اضافہ کر رہے تھے۔

وقار احمد ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے