سجی چودھویں کر رات تھی آباد تھا کمرہ ترا

( ابن انشاء سے معذرت کے ساتھ )
سجی چودھویں کر رات تھی آباد تھا کمرہ ترا
ہوتی رہی دھن تک دھنا بجتا رہا طبلہ ترا
شناسا، آشنا، ہمسایہ، عاشق نامہ بر
تھا تیری بزم میں ہر چاہنے والا ترا
ہیں جتنے دیدہ ور تو سب کا منظور نظر
گاما ترا، پھجا ترا، ایرا ترا، غیرا ترا
شخص آیا بزم میں جیسے سیاہی رزم میں
کچھ نے کہا یہ باپ ہے، کچھ نے کہا بیٹا ترا
میں بھی تھا حاضر بزم میں جب تو نے دیکھا ہی نہیں
بھی اٹھا کر چل دیا بالکل نیا جوتا ترا
اک ڈاکے میں کل دونوں نے مل کر لوٹا ہے
اب یہ کہتا ہے آدھا مرا آدھا ترا
دلاور فگار

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے