سیر مانند صبا کیجے گا

سیر مانند صبا کیجے گا
رہ کے گلشن میں بھی کیا کیجے گا
کس توقع پہ صدا کیجے گا
نہ سنے کوئی تو کیا کیجے گا
حق پرستی ہے بڑی بات مگر
روز کس کس سے لڑا کیجے گا
بن گئے لالہ و گل جز و قفس
کس سے اب ذکر صبا کیجے گا
دوستی شرط نہیں ہے کوئی
بس یونہی ہم سے ملا کیجے گا
لو سلام سر رہ سے بھی گئے
اور جا جا کے گلا کیجے گا
طوف کعبہ کو گئے تو باقیؔ
میرے حق میں بھی دعا کیجے گا
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے