سیب کا درخت

سیب کا درخت
پرانے مکان کے ساتھ دو بغیچے تھے۔ پہلا جسے ہم "جنگلی بغیچہ "کہا کرتے تھے، سبزی کی کیاریوں کے دوسری طرف واقع تھا جس میں کچّے اور کڑوے شاہ دانہ، آلوبخارا اور صاف و شفّاف رنگ کے پیلے پیلے آلوچوں کے پیڑ اُگے ہوئے تھے بڑے بڑے گھنیرے درختوں کے سائے نے اُس بغیچے کو اندھیرے میں چھپا رکھا تھا۔ اندھیرے کے ڈر سے ہم نہ تو وہاں کھیلنے جاتے تھے اور نہ گرے پڑے پھل اُٹھا لانے کی جرأت کرتے تھے۔ البتہ اُس کے بیچوں بیچ چاروں طرف سے کھُلے ہوئے صحن میں ہر سوموار کی صبح کو ہماری ملازمہ اور دھوبن مختلف کپڑے مثلاً دادی امّاں کا شب خوابی کا لباس، ابّا کی دھاری دار قمیض۔ نوکر کے اونی پاجامے اور خادمہ کے غلیظ اور بدنما گھٹنّے دھوکر سُکھانے کے لیے لے جاتی تھی۔ دوسرا بغیچہ مکان سے بہت دور اور نظروں سے چھُپا ہوا، ایک چھوٹی سی پہاڑی کے دامن میں چوپالوں کے باڑوں کے کناروں تک پھیلا ہوا تھا۔ چمکدار اور نیلے کیکروں کے جھنڈ تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کی پھیلی ہوئی شاخیں، اپنی درانتیوں کی طرح لہراتی ہوئی پتیوں کے ساتھ نیچے کو جھُکی پڑتی تھیں۔
پھل دار پیڑوں کے نیچے اتنی موٹی اور بھّدی گھاس اُگی ہوئی تھی کہ جب کوئی اُدھر سے گزرتا تو اُس کے جوتے اور پَیر اُس میں اُلجھ کر رہ جاتے تھے۔ یہ گھاس گرمی کے دنوں میں بھی گیلی رہتی تھی۔ آندھی کے تیز اور طوفانی جھونکوں کے زور سے گرے ہوئے پھلوں کی تلاش میں کوئی وہاں جاتا اور گھاس کے اُلجھیڑوں سے اپنے پیر چھڑانے کے لیے اُسے ہاتھوں سے اِدھر اُدھر ہٹاتا تو اُس کی نمی کا اچھی طرح احساس ہوتا تھا۔ پرندوں کے کُترے ہوئے پھل، ادھ کھائی ناشپاتیاں کچلی ہوئی بہِیاں، جن پر چڑیوں کی چونچ کے نشان ہوتے تھے بڑی تعداد میں گھاس پر اِدھر اُدھر بکھرے پڑے رہتے تھے اور اُن کو نمک لگا لگا کر کھانے سے بڑا مزہ آتا تھا۔ سوندھی سوندھی خوشبو اتنی اچھی ہوتی تھی کہ اُن کو کھانے کی بجائے سونگھنا ہی بھلا معلوم ہوتا تھا۔
ایک سال اُس بغیچے میں، ایک ایسے درخت کا پتہ لگا۔ جس کی حفاظت اور نگہداشت کی سب کو فکر ہو گئی۔ یہ درخت سیب کا تھا، جسے ایک دن شام کو کھانے کے بعد چہل قدمی کرتے ہوئے ابّا جان اور اُن کے ایک دوست نے معلوم کیا تھا۔
"سبحان اللہ۔ "ابّا جان کے دوست نے سیب کے درخت کو اتفاقیہ دیکھ لینے پر کہا۔ "کیا یہ ایک۔۔۔۔۔۔ نہیں؟ ”
اور جس طرح کسی ننھے پودے پر کوئی ایسی چڑیا بیٹھی ہو۔ جس کا ہمیں نام نہ معلوم ہو اور ہم اپنی سمجھ کے مطابق کوئی اچھا سا نام رکھ دیں۔ اُس طرح ابا جان کے دوست نے اِس درخت کو ایک شاندار نام سے یاد کیا۔
"بے شک! تمھارا خیال صحیح ہے ! "ابا جان نے آہستہ سے کہا۔ حالانکہ واقعہ یہ تھا کہ اُن کو پھل دار درختوں کے نام تک معلوم نہ تھے۔
"سبحان اللہ! "اُن کے دوست نے دوبارہ کہا۔ "کتنے خوبصورت سیب ہیں شاید ہی کہیں اِن کا ثانی نظر آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنے شاندار! مگر اِن کو کچا نہ توڑ لینا؟
"نہیں نہیں۔۔۔۔ واقعی یہ خوب صورت ہیں۔ "ابا جان نے درخت کی طرف ایک نئی دلچسپی سے دیکھتے ہوئے مگر بے پروائی کے انداز میں کہا۔
کیسے نادر سیب ہیں۔۔۔۔ بہت ہی نادر۔۔۔۔۔۔ آج کل انگلستان میں ایسے سیب شاذ و نادر ہی کہیں نظر آئیں گے۔ یہ کہہ کر مہمان نے والد کی خوشی کو انتہائی درجے تک پہنچا دیا۔
والد ایک خود ساختہ انسان تھے۔ اور جو قیمت اُنہوں نے اپنے مکان اور زمین کی ادا کی تھی وہ اُن کے لیے بہت زیادہ اور تکلیف دہ تھی۔ اِس لیے اُن کو اپنی خریدی ہوئی کسی چیز کی تعریف سے بڑھ کر کسی بات سے خوشی نہیں ہو سکتی تھی۔ وہ ابھی تک جوان اور ذی حِس تھے وہ اب تک کبھی کبھی سوچتے تھے کہ آیا اُن کو روپے میں پورے سولہ آنے کی چیز ملی ہے یا نہیں؟ وہ اب بھی کبھی چاندنی راتوں میں، اِدھر اُدھر ٹہلتے ہوئے گھنٹوں، اپنی دفتر کی روزانہ حاضری سے نجات۔۔۔۔۔۔ اور ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کرنے کی بابت سوچا کر تے تھے !
اب جو اُن کو معلوم ہوا کہ اُن کے باغیچے میں سیب کا ایک قیمتی درخت ہے ایسا شاندار درخت جسے اُن کے انگلستان کے رہنے والے دوست نے بھی رشک و حسد کی نظروں سے دیکھا تھا تو اُن کی خوشی کی کوئی حد نہ رہی۔
"بچّو! اِس درخت کونہ چھیڑنا سنتے ہو میں کیا کہہ رہا ہوں ؟ "ابا نے کسی قدر نرمی مگر استقلال کے لہجے میں کہا۔ مگر اپنے دوست کے چلے جانے کے بعد ایک بالکل نئے انداز میں اتنا اضافہ اور کر دیا کہ "اگر میں نے کبھی بھی تم میں سے کسی کو اِن سیبوں کو چھیڑتے ہوئے دیکھا، تو یاد رکھنا، چابک سے تمھاری اچھی طرح خبر لوں گا۔ ”
اُس دن کے بعد سے والد کا معمول ہو گیا کہ وہ ہر اتوار کی صبح، اِس حالت میں کہ ہم دونوں بہن بھائی دُم کی طرح اُن کے ساتھ لگے رہتے تھے۔ بنفشہ کی پگڈنڈی پر ٹہلتے ہوئے۔ سفید گلاب کی پھلواری سے گزر کر پہاڑی کے دامن والے بغیچے میں پہنچ جاتے تھے۔
ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے سیب کے درخت کو بھی اپنی نئی شان اور قیمت کا علم ہو گیا ہے۔ وہ ایک مغرور دوشیزہ کی طرح اپنے ساتھی سے الگ تھلگ، اپنے خوشوں اور جھمکوں کے بوجھ سے کسی قدر جھُکا ہوا، اپنی چمک دار پتیاں، برسانے میں محو نظر آتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ والد کی نظروں میں اُس کی اہمیت بہت بڑھ گئی تھی۔ اُسے دیکھ کروہ خوشی کے مارے پھولے نہ سماتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں معلوم تھا کہ وہ پھولے نہیں سماتے۔ وہ اپنی پشت پر ہاتھ رکھے سامنے کی طرف نظریں جما دیتے تھے۔ سامنے جہاں حُسنِ اتفاق کی یہ سر سبز مثال مجسّم و متشکّل تھی۔ وہ مثال کہ زمین کا سودا طے کرتے وقت کسی کو اس کا سان و گمان بھی نہ تھا۔ یہ درخت اُس وقت کسی شمار قطار میں نہ تھا۔ اُس کی ایک حبّہ قیمت تک نہ دی گئی تھی اور آج۔۔۔۔۔۔۔ آج یہ حالت تھی کہ اگر تمام مکان جل کر کوئلہ ہو جاتا تو والد کو اتنی پروا ہر گز نہ ہوتی جتنی اِس درخت کی بربادی سے تکلیف پہنچنے کا امکان تھا۔
میں اور بوگی مل کر اِس درخت کے پاس کھیلا کرتے تھے۔ اِس حال میں کہ بوگی کے ہاتھ اُس کی پیٹھ پر ہوتے تھے۔ اور ایک گول ٹوپی اُس کے سر پر۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اُس کے گھٹنے جھُکے ہوئے، جن پر خار دار پودوں اور جھاڑیوں کی رگڑ سے خراشیں نظر آتی تھیں۔
سیبوں کا زردی مائل سبز رنگ، خالص زردی سے بدلنے لگا۔ اُن پر گہرے بادامی رنگ کی لکیریں پیدا ہونے لگیں۔ کچھ دن بعد بادامی رنگ مٹنے لگا اور اُس کی جگہ سرخی پھیلنے لگی۔ رفتہ رفتہ سُرخی نہایت لطیف اور گہرے قرمزی رنگ کی صورت میں چاروں طرف پھیل گئی۔
آخر ایک دن ابّا جان نے اپنی واسکٹ کی جیب سے سیپ کے دستے کا چھوٹا سا چاقو نکالا اور سیب کے درخت پر چڑھ کر نہایت آہستگی اور احتیاط کے ساتھ ایک ٹہنے سے دو سیب توڑے۔
"کتنے گرم ہیں۔ "وہ تعجب کے لہجے میں چلّائے "حیرت انگیز۔۔۔۔۔۔۔۔ شاندار۔ ‘‘۔۔۔۔۔۔ وہ خوشی کے عالم میں دونوں سیبوں کو اپنے ہاتھوں میں اچھال رہے تھے۔
"اِدھر دیکھو! "درخت سے اُتر کر اُنھوں نے کہا۔ "کہیں بھی کوئی دھبّہ یا نشان نظر نہیں آتا۔ ”
وہ سیبوں کو ہاتھ میں لیے ایک گرے ہوئے درخت کے ٹہنے پرجا بیٹھے۔ ہم دونوں بہن بھائی جو جھاڑیوں سے اُلجھتے اور گرتے پڑتے ٹھوکریں کھاتے اُن کے پیچھے پیچھے گئے تھے۔ اُن کے دائیں بائیں بیٹھ گئے۔ اُنھوں نے ایک سیب گود میں رکھا اور دوسرے کو ہاتھ میں لے کر چاقو کھولا۔ پھر نہایت صفائی اور احتیاط سے سیب کے دو ٹکڑے کیے۔
"آہاہا۔ ذرا اِس کی طرف دیکھو! "وہ فرطِ خوشی سے چلّائے۔
"ابا! ! "ہم سے بھی اپنی معصومانہ خوشی ضبط نہ ہوئی۔ چھلکے کے سُرخ رنگ کے اندر سے سفید گودا بہت ہی بھلا معلوم ہوتا تھا۔ بیچ میں چمکدار اور سیاہ رنگ کے بیج بہت ہی خوب صورتی سے جمے ہوئے تھے۔ جس سطح پروہ جمے ہوئے تھے اُس کا رنگ بادامی تھا۔ جیسے تمام سیب کو شراب میں ڈبویا گیا ہو۔
"ایسے سیب تو کبھی بھی دیکھنے میں نہیں آئے۔ "ابّا نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ "اگر میں منع نہ کرتا اور تم اِن کو توڑ لیتے تو یہ سیب ایسے ہر گز نہ ہوتے۔ ”
وہ سیب کے ٹکڑے کوا پنے ناک کے قریب لے گئے اور بولے ’کیسی لذیذ خوشبو ہے۔۔۔۔۔۔۔ لذیذ! "یہ کہہ کر اُنھوں نے آدھے سیب کے ٹکڑے کیے۔ اور ایک ایک ٹکڑا میرے اور بوگی کے حوالے کیا۔
"ابھی نہ کھانا "ابّا نے کہا۔۔۔۔۔۔۔ ہم اپنے اپنے حصّے کے ٹکڑے ہاتھ میں لیے اور خاموش بیٹھے رہے۔ اِس کے بعد اُنھوں نے باقی نصف سیب کے بھی پوری نفاست اور احتیاط سے دو ٹکڑے کیے اور ہمیں کھانے کی اجازت دی۔
میری نظریں بوگی پر جمی ہوئی تھیں۔ ہم نے ایک ساتھ اپنے اپنے ٹکڑے پر منہ جو مارا ہمارا منہ سیب کے گودے سے بھر گیا۔ گودا بہت سخت اور بے حد کڑوا تھا۔ نہایت بدمزہ اور ناگوار۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
"کیوں کیسا ہے ؟ "والد نے انتہائی مسّرت کے عالم میں پوچھا۔ اُنہوں نے اپنے حِصّے کے سیب کے چار ٹکڑے کر لیے تھے۔ اور چاقو کی نوک سے اُس کے بیج نکال رہے تھے۔
"کیوں ؟ "اُنہوں نے پھر دریافت کیا۔ میں نے اور بوگی نے سیب کو جلدی جلدی چباتے ہوئے پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ چبانے اور نگلنے کی اِس مختصر اور ایک لمحی مدّت میں ہم نے ایک طویل اور خاموش گفتگو آنکھوں آنکھوں میں کر لی اور ایک عجیب اور معنی خیز مسکراہٹ ہمارے ہونٹوں پر پیدا ہو گئی۔
"بہت مزیدار! "ہم نے بالکل چھوٹ کہا۔ "ابا "بہت ہی مزے دار بہت ہی خوش ذائقہ! ”
مگر ہماری غلط گوئی کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ابّا نے سیب کا ٹکڑا فوراً تھوک دیا اور پھر وہ کبھی اُس سیب کے درخت کے پاس تک نہ پھٹکے۔
(انگریزی افسانہ)
اختر شیرانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے