سفر یہ زیست کا کرنا ہمیں محال ہوا

سفر یہ زیست کا کرنا ہمیں محال ہوا
لہو لہو ہوا دل درد بے مثال ہوا

ہوا جو درد تو سینے کو تھام کے اپنے
کنارے بیٹھ گئے آج یہ دھمال ہوا

ہوا بھی سرد تھی کچھ لوگ بھی تھے سرد یہاں
سبب تھا یہ ہی جو زخموں سے دل نڈھال ہوا

گلہ کریں بھی تو کس سے بتا دلِ ناداں
خطائیں اپنی ہیں جو آج یہ زوال ہوا

بڑی عجیب سی تھی داستانِ غم انکی
سنی جو ہم نے تو دل کا خراب حال ہوا

پریشاں دیکھ کے دنیا کو اپنا دکھ بھولے
خدا کا شکر کہ ہر زخم اندمال ہوا

بغیر دکھ کے نہیں شازیہ کوئی جگ میں
ملے جو ان سے تو یکدم ہمیں خیال ہوا

شازیہ طارق

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے