سفر سے پہلے 

 سفر سے پہلے 

وہ اک لڑکی بہت چنچل محبت کا گھنا جنگل

بہت پاگل

مجھے کیوں خاص لگتی ہے

مجھے کیوں یاد کرتی ہے

سحر سے شام ہونے تک ہر گزرتے پل

 مجھے آواز دیتی ہے

وہ میرا نام لیتی ہے

کبھی جب دل کی بے چینی سے اکتا کر کسی سے بات کرتی ہے

میں اپنی روح کے ہر زاویئے سے اسکی باتوں میں سبھی الفاظ کو بے جان پاتا ہوں

میں یہ بھی جانتا ہوں بے تحاشا کھل کے ہنستی ہے

مگر اب تو ہنسی ہونٹوں تلک آنے سے پہلے ہی نگاہوں میں نمی سی تیر جاتی ہے

بہت پہلے کہا تھا جب

 کہ جلدی لوٹ آؤنگا تو میرے ہاتھ پہ اس نے بہت زوروں سے کاٹا تھا

کہا تھا ساتھ ہوں نہ میں

یہیں تو ہوں تمھارے پاس

تمھیں جب جب کمی میری ستائے تو

مجھے آواز دے لینا

تمھیں میری مہک آئے سمجھ لینا تمھارے ساتھ ہی ہوں میں

مگر جاناں سنو یوں ہے کہ تم بن سب ادھورا ہے

میری یادوں میں گم لڑکی تجھے کیسے بتاؤں میں کہ تیرے ساتھ کی خوشبو مجھے محسوس ہوتی ہے

زرا سا وقت باقی ہے گھڑی بھر کی جدائی ہے محبت لوٹ آئی ہے

میری سانسیں تمھیں سے ہیں

تمھاری یاد کی چادر میں لپٹے خواب جلتے ہیں

مجھے تم یاد کرتی ہو؟؟

تمھیں ہم یاد کرتے ہیں

سلمیٰ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے