Safar Safar Mein

سفر سفر میں چلیں گے ،ترا خیال اور میں
سدا مہکتے رہیں گے ترا خیال اور میں

سفر امید کا میرے لہو میں جاری ہے
کسی جگہ تو ملیں گے ترا خیال اور میں

شبِ فراق، بجائے چراغ و داغ ِ دل
تمام رات جلیں گے ترا خیال اور میں

وصال ِجسم کوئی دائمی وصال نہیں
جدا جدا ہی رہیں گے ترا خیال اور میں

بہار میں بھی اگر ہم خزاں رسیدہ رہے
تو کون رُت میں کھلیں گے ترا خیال اور میں

سراب سا ہے یہ دنیا کا آئنہ لودھی
مثال ِ عکس ڈھلیں گے ترا خیال اور میں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے