سفر قیام مرا، خواب جستجو میری

سفر قیام مرا، خواب جستجو میری

بہت عجیب ہے دنیائے رنگ و بو میری

تجھے خبر بھی نہیں تجھ میں خاک ہونے تک

ہزار دشت سے گزری ہے آبجو میری

میں سبز شاخ ہوں اور خاک تک نہیں محدود

سمندروں کی تہوں میں بھی ہے نمو میری

میں اس خیال کو چھوتے ہوئے لرزتا ہوں

مگر یہ سچ ہے کہ منزل نہیں ہے تو میری

تلاش کرتی ہوئی آنکھ کی تلاش میں ہوں

کوئی تو شکل ہو دنیا میں ہو بہو میری

وہ نام لے کے میں کچھ اور کہنا چاہتا تھا

کہ گھٹ کے رہ گئی آواز در گلو میری

ہوائے شب تجھے آئندگاں سے ملنا ہے

سو تیرے پاس امانت ہے گفتگو میری

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے