سفر میں تھوڑا سا جادو کا کھیل ہو جائے

سفر میں تھوڑا سا جادو کا کھیل ہو جائے
میں جو لکیر بھی کھینچوں وہ ریل ہو جائے
نظر کا تیر تو پتھر میں ڈھل چکا کب کا
بس اب وہ آنکھ اٹھے اور غلیل ہو جائے
شکستہ شہر میں مٹی کے مرد و زن رکھ دوں
اسی بہانے ذرا ریل پیل ہو جائے
ربڑ کے پھول بنائے تو مسئلہ ہوگا
کہیں خفا نہ یہ جنگل کی بیل ہو جائے
شجر نے عرض گزاری تو یہ بھی ممکن ہے
گناہ گار پرندے کو جیل ہو جائے
جسے میں دیکھ کے خوش ہو رہا ہوں جنگل میں
اگر وہ لڑکی اچانک چڑیل ہو جائے
عاطف کمال رانا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے