سفر میں رکھے نئے منظروں کی چاہ مجھے

سفر میں رکھے نئے منظروں کی چاہ مجھے
کہیں غبار نہ کر دے یہ گردِ راہ مجھے
ترے سلوک سے پہلے ہی میں پریشاں ہوں
تباہ اور نہ کر اے دلِ تباہ مجھے
گزر رہا ہوں یہ کس عالمِ ندامت سے
ثواب لگنے لگے ہیں مرے گناہ مجھے
یہیں کہیں تھا ابھی سایۂ صفِ مژگاں
یہیں کہیں تھی میّسرابھی پناہ مجھے
مرا وجود بھی میرا وجود ہے کہ نہیں
کوئی یقین ہے ایسا نہ اشتباہ مجھے
گزارنی ہے کسی طور زندگی کاشف
کوئی فقیر پکارے کہ بادشاہ مجھے
کاشف حسین غائر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے