سفرهےاوربارهاسفرمیں یوں بھی هوگیا

سفرهےاوربارهاسفرمیں یوں بھی هوگیا
کسی کوڈهونڈتےهوئےکہیں میں آپ کھوگیا

غریب شہرتھا میں اورپڑاهواتھاراه میں
کوئی تو مُجھ په هنس دیا توکوئی مُجھ په روگیا

ابھی تو شام بھی نہیں ڈھلی هے ٹھیک طورسے
ابھی سے مُنه لپیٹ کر تمام شہر سو گیا

غُبارهوں وه راه کا هے جس نے آسماں چُھوا
چُھواهے آسماں تو کیا میں آسمان هوگیا

مزاج اُن کادیکھ کےپھرآج اُن کی بزم سے
جواُٹھ رهےتھے دوستومیں اُن کے ساتھ هو گیا

فرانسس سائل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے